یمن کے شہر عدن کے گورنر حملے میں ہلاک

عدن میں سرکاری عمارتوں کو پہلے بھی نشانہ بنایا گیا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنعدن میں سرکاری عمارتوں کو پہلے بھی نشانہ بنایا گیا ہے

یمن میں سکیورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ عدن شہر کے گورنر ایک حملے کے دوران ہلاک ہو گئے ہیں۔

<link type="page"><caption> یمن کے جنوبی شہر عدن میں ہوٹل پر راکٹ حملہ</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2015/10/151006_yemen_aden_hotel_attacked_mb" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> ’عدن کے پناہ گزینوں کے خلاف سنگین مظالم کا ارتکاب کیا گیا‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2015/09/150902_yemen_fighting_ra" platform="highweb"/></link>

خود کو دولت اسلامیہ کہنے والی شدت پسند تنظیم نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

خبر رساں ادارے رؤئٹرز کے مطابق جعفر محمد سعد کو لے جانے والے قافلے پر راکٹ پروپیلڈ گرینڈے ساتھ حملہ کیا گیا۔

شمالی یمن کے حوثی باغیوں نے دارالحکومت صنعا سمیت کے بیشتر علاقوں پر قبضہ کر رکھا ہے۔

اس سال کے آغاز میں حکومتی فورسز اور سعودی قیادت میں بین الاقوامی اتحاد نے عدن پر دوبارہ قبضہ حاصل کیا تھا۔

سکیورٹی فورسز کے مطابق گورنر کے قافلے میں موجود دیگر لوگ بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

اقوام متحدہ کی کوشش ہے کہ فریقین میں اس ماہ مذاکرات کا انعقاد کی جاسکے۔

سنیچر کو حملہ آووروں نے انسداد دہشت گردی کے ایک جج کو ان کے دو بیٹوں سمیت گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا جبکہ دوسرے حملے میں ایک فوجی انٹیلیجنس اہلکار کو ہلاک کیا گیا۔

واضح رہے کہ یمن میں جاری خانے جنگی کے دوران شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے اپنے قدم جمائے ہیں۔