حوثیوں کے خلاف سعودی اور القاعدہ برسر پیکار

بی بی سی کو شواہد ملے ہیں کہ یمن میں سعودی عرب کی قیادت میں لڑنے والے اتحادی فوج کی حمایت یافتہ ملیشیا اور القاعدہ کے جنگجو تعز شہر میں حوثی باغیوں کے خلاف اکٹھے لڑ رہے ہیں۔

تعز شہر کے لیے جاری لڑائی میں ایک دستاویزی فلم بنانے والی خاتون نے ویڈیو بنائی ہے جس میں القاعدہ کے جنگجو اور یمنی حکومت کی حمایتی ملیشیا جس کی حمایت متحدہ عرب امارات کر رہی ہے کو اکٹھے لڑتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

واضح رہے کہ دس عرب ممالک پر مشتمل اتحاد شیعہ حوثی باغیوں کے خلاف جنگ میں یمنی حکومت کی مدد کر رہا ہے۔

تاہم اس اتحاد نے تردید کی ہے کہ حوثیوں کے خلاف جنگ میں شدت پسندوں کے ساتھ تعاون کیا جا رہا ہے۔

یمنی حکومت کی حمایتی ملیشیا کئی ماہ سے دارالحکومت صنعا سے 205 کلومیٹر دور تعز شہر کے کنٹرول کے لیے حوثیوں کے خلاف لڑ رہی ہے۔

تعز شہر کے تمام راستوں پر حوثی باغیوں کا کنٹرول ہے اور شہر میں مقامی ملیشیا محصور ہوگئی ہے جبکہ اتحادی فوج باغیوں پر جنوب اور مغرب سے کئی محاذوں پر لڑ رہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہbbc

اس لڑائی کے باعث تعز شہر میں وسیع پیمانے پر تباہی ہوئی ہے اور اقوام متحدہ کے مطابق دو لاکھ شہری شہر میں محصور ہیں جن کو طبی امداد اور خوراک کی ضرورت ہے۔

دستاویزی فلم بنانے والی صفا الاحمد پچھلے سال تعز کی فرنٹ لائن پر گئی تھیں۔ محاذ پر انھوں نے حکومت کی حمایتی ملیشیا سے بات ہوئی جو پہاڑی کی چوٹی پر متحدہ عرب امارات کی فوج کی مدد سے حوثی باغیوں کے خلاف لڑ رہے تھے۔ متحدہ عرب امارات ملیشیا کو ٹیکٹیکل سپورٹ مہیا کر رہی تھی۔

محاذ میں حوثیوں کے خلاف لڑائی میں شامل ایک گروہ نے صافا کو فلم نہ بنانے کا کہا۔

اس گروہ نے سافا کو بتایا کہ ان کا تعلق انصار الشریعہ سے ہے جو القاعدہ سے منسلک ہے اور وہ ایک عورت کی اس جگہ پر موجودگی سے ناراض ہیں۔

صافا کا کہنا ہے کہ لگتا ہے کہ القاعدہ نے اپنے جنگجو تعز شہر اس لیے بھیجے کہ اس کا اثر و رسوخ مزید بڑھے اور وہ اپنا پیغام پھیلا سکیں۔

پچھلے 11 ماہ میں کئی اطلاعات آ چکی ہیں کہ جنوبی یمن میں اتحادی فوج اور القاعدہ کے جنگجو حوثیوں کے خلاف اکٹھے لڑ رہے ہیں۔

یمنی حکومت پر الزام عائد کیا جاتا ہے کہ وہ القاعدہ کے ساتھ براہ راست ٹکراؤ نہیں چاہتی اور اسی لیے سرکاری اہداف پر حملے نہیں ہو رہے۔

یاد رہے کہ مارچ 2015 سے یمن میں جاری لڑائی میں چھ ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔