یمن امن مذاکرات بغیر کسی معاہدے کے ختم

اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کا کہنا ہے کہ کچھ پیش رفت ضرور ہوئی ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشناقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کا کہنا ہے کہ کچھ پیش رفت ضرور ہوئی ہے

یمن میں جاری تنازعے کو ختم کرنے کے لیے سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے امن مذاکرات بغیر کسی معاہدے کے ختم ہوگئے ہیں۔

اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسماعیل ولد شیخ احمد کا کہنا ہے کہ مذاکرات آئندہ سال 14 جنوری سے دوبارہ شروع ہوں گے۔ تاہم مذاکرات کی جگہ کا تعین ابھی نہیں کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کچھ پیش رفت ہوئی ہے لیکن عارضی جنگ بندی کی خلاف ورزی کی وجہ سے مسائل پیدا ہوئے۔

شمالی یمن میں حوثی باغیوں اور حکومتی فورسز کے درمیان شدید لڑائی جاری ہے اور گذشتہ روز اطلاعات کے مطابق سعودی سرحد کے قریب شمال مغربی یمن میں حکومتی افواج اور حوثی باغیوں کے درمیان تازہ لڑائی میں کم سے کم 68 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

شیخ احمد نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ آئندہ چند دنوں اور ہفتوں کے دوران جنگ بندی کو یقینی بنانے کے لیے تمام تر کوششیں کریں گے۔

انھوں نے کہا کہ ’ہم نے حالیہ دنوں میں کچھ کامیابیاں حاصل کی ہیں لیکن یہ کافی نہیں ہیں اور ہمیں شرکا کے درمیان مزید خیالات کے تبادلے کی ضرورت ہے۔‘

مذاکرات کے دوران سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنمذاکرات کے دوران سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے

’یہ صحیح سمت کی جانب قدم ہے۔ اب ہمیں آگے بڑھنا ہے اور ہمیں اس عمل کو برقرار رکھنا ہے۔‘

سوئٹزرلینڈ کے دارالحکومت برن میں بی بی سی کے نامہ نگار اموجین فوکس کا کہنا ہے کہ یہ مذاکرات وہ بنیادی چیز حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں جو اقوام متحدہ چاہتا ہے اور وہ ایسی جنگ بندی ہے جو قائم رہ سکے۔

اموجین فوکس کا مزید کہنا تھا کہ اگر جنگ بندی کو زیادہ دیر تک قائم رکھنے میں کامیابی ہو جاتی ہے تو امن کی جانب دیگر قدم اٹھائے جا سکتے ہیں جیسا کہ قیدیوں کی رہائی اور بھاری اسلحے کی روک تھام۔

خیال رہے کہ مارچ کے مہینے میں سعودی عرب کی قیادت میں ایک فوجی اتحاد نے یمن میں حُکومت کی بحالی کے لیے فوجی مہم جوئی شروع کی تھی اور حوثی باغیوں اور اُن کے حلیفوں کو پیچھے دھکیل دیا تھا۔

اس تنازعے کے دوران مارچ سے اب تک تقریباً 5700 افراد مارے جا چکے ہیں۔