یمن میں جنگ بندی کے باوجود تازہ جھڑپیں،’68 افراد ہلاک‘

،تصویر کا ذریعہAFP
اطلاعات کے مطابق سعودی سرحد کے قریب شمال مغربی یمن میں حکومتی افواج اور حوثی باغیوں کے درمیان تازہ لڑائی میں کم سے کم 68 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
بتایا جا رہا ہے کہ یہ تازہ جھڑپ ہراد قصبے کے قریب ہوئی ہے جس پر حکومتی فورسز نے دو روز قبل قبضہ حاصل کیا تھا۔
فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کے 28 فوجی ہلاک ہوئے ہیں جبکہ دوسری جانب حوثی باغیوں کا کہنا ہے کہ ان کے 40 جنجگجو ہلاک ہوئے ہیں۔
منگل کو شروع ہونے والے امن مذاکرات اور جنگ بندی کے باوجود یمن میں اس قسم کی جھڑپیں جاری ہیں۔
سنیچر کے روز ہلاک ہونے والوں کے علاوہ کم سے کم 50 حوثی باغیوں اور 40 حکومتی فوجیوں کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔
کئی ماہ سے جاری اس لڑائی کو ختم کرنے کے لیے حوثیوں اور حکومتی وفد کے درمیان سوئٹزرلینڈ میں مذاکرات ہو رہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایسی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں کہ باغیوں نے یمنی اور سعودی اتحادیوں پر جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگایا ہے۔ جنگ بندی کا یہ معاہدہ ایک ہفتے تک جاری رہنا تھا۔
واضح رہے کہ گذشتہ دنوں یمن میں عسکری کارروائیاں کرنے والے سعودی عرب کی زیرِ قیادت اتحاد نے متنبہ کیا تھا کہ یمن میں حوثی باغیوں سے جنگ بندی کا معاہدہ کسی بھی وقت ختم ہو سکتا ہے۔
اتحاد کا کہنا تھا کہ جنگ بندی کے بعد سے معاہدے کی 150 مرتبہ خلاف ورزی کی جا چکی ہے اور اقوامِ متحدہ کو چاہیے کہ وہ باغیوں کو بتا دے کہ برداشت کی ایک حد ہوتی ہے۔
خیال رہے کہ مارچ کے مہینے میں سعودی عرب کی قیادت میں ایک فوجی اتحاد نے یمن میں حُکومت کی بحالی کے لیے فوجی مہم جوئی شروع کی تھی اور حوثی باغیوں اور اُن کے حلیفوں کو پیچھے دھکیل دیا تھا۔
اس تنازعے کے دوران مارچ سے اب تک تقریباً 5700 افراد مارے جا چکے ہیں۔
اِس دوران پہلے سے بگڑتی ہوئی انسانی حقوق کی صورت حال شدید خراب ہو گئی ہے اور کُل آبادی کے 80 فیصد کے برابر، یعنی دو کروڑ دس لاکھ افراد مدد کے منتظر ہیں۔







