’فلوجہ کی فضاؤں میں بھی جنگ کی بو ہے‘

،تصویر کا ذریعہ

    • مصنف, جیرمی بووِن
    • عہدہ, بی بی سی کے مدیر برائے مشرق وسطیٰ، فلوجہ

عراقی شہر فلوجہ کی فضاؤں میں جنگ کی بو پھیلی ہوئی ہے اور شہر کے مرکز کے اردگرد آگ بھڑک رہی ہے۔

عراق کے خفیہ ادارے کے اہلکار لیفٹیننٹ حسن کے مطابق ان میں سے کئی جگہوں پر آگ خود عراقی فورسز نے لگائی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ وہ مشتبہ عمارتوں میں دستی بم پھینکتے ہیں۔ ایسے ہی ایک بم کے پھٹتے ہی مجھے دھماکہ خیز مواد کے پھٹنے کی آواز سنائی دی۔

اس وقت فلوجہ بالکل ویران ہو چکا ہے جہاں صرف عراقی فوج کے اہلکار ہی گھومتے پھرتے دکھائی دیتے ہیں۔

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ تمام عام شہری فلوجہ کو چھوڑ کر جا چکے ہیں۔ میں نے خود کو دولت اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم کے جنگجوؤں کی لاشیں دیکھیں جو جہاں مارے گئے، وہیں چھوڑ دیے گئے تھے۔

،تصویر کا ذریعہ

ایک شاہراہ پر وسیع عمارت میں شرعی عدالت قائم کی گئی تھی۔ لیفٹیننٹ حسن نے بتایا کہ انھوں نے باضابطہ مہریں اور کاغذات قبضے میں لیے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ اس عمارت کو بطور عدالت استعمال کیا جاتا رہا ہے۔

اسی عمارت میں ایک کمرا فلوجہ میں دولت اسلامیہ کی جانب سے بنائی گئی آدھی درجن جیلوں میں سے ایک ہے۔ یہ آگ لگنے سے بری طرح متاثر ہو چکا ہے۔

اس کمرے میں آدھے درجن سٹیل کے پنجرے بنائے گئے ہیں جن میں سے دو کی اونچائی صرف کمر تک تھی۔

یہاں ہر عمارت کو نقصان نہیں پہنچا لیکن کافی حد تک تباہی ہوئی ہے۔ تمام نواحی علاقوں کو دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ 2014 میں دولت اسلامیہ کے فلوجہ پر قبضے کے بعد ہی سے ویران پڑے ہوں۔

گلیوں میں گھاس اگ رہی ہے اور گھر ایسے لگ رہے ہیں جیسے طویل عرصے سے خالی پڑے ہوں۔ جیسے جیسے اس شہر پر دولت اسلامیہ کا قبضہ ہوتا گیا لوگوں کی ایک بڑی آبادی یہاں سے نکلتی گئی۔

،تصویر کا ذریعہ

عراقی فوج کو فلوجہ میں ایک بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ یہ علاقہ بغداد سے تقریباً آدھے گھنٹے سے بھی کم مسافت پر واقع ہے، لیکن تبھی جب جنگ نہ ہو رہی ہو۔

یہ علاقہ 2003 امریکی اتحاد کے عراق پر قبضے کے بعد سے القاعدہ کے عروج کے زمانے میں جہادیوں کا مضبوط گڑھ تھا۔

عراق میں القاعدہ ہی کی ایک شاخ ٹوٹ کر دولت اسلامیہ بن گئی، جس کے بعد سے انھوں نے نہ صرف فلوجہ پر قبضہ کیا بلکہ وہ ان کے لیے ایک مضبوط قلعے کی صورت اختیار کر گیا۔

،تصویر کا ذریعہ

اس کے باوجود کہ دولت اسلامیہ کو فلوجہ میں شکست ہو گئی ہے، عراق میں وہ اب بھی ایک ایسی قوت ہے جس کا خوف باقی ہے۔

اب عرقی افواج اور شیعہ ملیشیا کے لیے سب سے بڑا ہدف موصل ہے، جو ابھی تک دولت اسلامیہ کے قبضے میں ہے۔

فلوجہ میں شہر کے مرکز میں جاری لڑائی میں ملیشیا شامل نہیں تھی لیکن انھوں نے آس پاس والے علاقوں پر قبضہ کر رکھا ہے۔

اگر دولت اسلامیہ موصل میں لڑنے کا فیصلہ کر لے تو عراقی فوج کو فلوجہ سے زیادہ مشکل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔