عوام فلوجہ کی آزادی پر جشن منائیں

،تصویر کا ذریعہAFP
عراق کے وزیراعظم حیدر العابدی نے ملک کے عوام کے نام پیغام میں کہا ہے کہ وہ خود کو دولتِ اسلامیہ کہلانے والی تنظیم کے قبضے سے فلوجہ شہر کی واپسی آزادی پر جشن منائیں۔
ان کا یہ بیان عراقی فوج کی جانب سے بغداد سے 50 کلومیٹر دور فلوجہ شہر کا قبضہ دوبارہ حاصل کرنے کےاعلان کے بعد سامنے آیا ہے۔
سرکاری ٹی وی پر وزیراعظم کی ایک ویڈیو میں فلوجہ کے مرکزی ہسپتال کے باہر عراقی جھنڈا لہراتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ آج ہمارے فوجی دستوں نے فلوجہ کو آزاد کروا لیا ہے اور موصل میں بھی اس وقت لڑائی جاری ہے۔
* <link type="page"><caption> ’فلوجہ شہر میں انسانی بحران کا خطرہ‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2016/06/160619_falluja_humanitarian_disaster_tk.shtml" platform="highweb"/></link>
وزیراعظم حیدر العابدی نے مزید کہا کہ ’عراق میں دولتِ اسلامیہ کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ وہ جہاں بھی جائے گی ہم اس کا پیچھا کریں گے، کیونکہ ہم نے فلوجہ میں اپنے جھنڈے کی سربلندی کا وعدہ کیا ہے۔ جلد ہی ہم اسے موصل میں لہرائیں گے میں عراقی عوام کو سے کہتا ہوں کہ وہ آج جشن منائیں‘
عراقی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے فلوجہ شہر میں نام نہاد دولتِ اسلامیہ کے زیرِ قبضہ ان کے آخری گڑھ پر بھی قبضہ حاصل کر لیا ہے۔
عراق میں انسدادِ دہشت گردی فورسز کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل عبدالواحد السعدی کا کہنا ہے کہ ان کی فوجیں دولتِ اسلامیہ کے زیرِ قبضہ آخری علاقے شمال مغربی گولان میں داخل ہو گئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا مزید کہنا تھا کہ شہر کو مکمل طور پر آزاد کروا لیا گیا ہے۔
دولتِ اسلامیہ نے اس شہر پر جنوری 2014 میں قبضہ کر لیا تھا۔
اس ماہ کے اوائل عراقی وزیرِ اعظم حیدر العابدی نے فوج کی جانب سے شہر میں کونسل کی عمارت پر جھنڈا لہرانے کے بعد شہر آزاد کروائے جانے پر تعریف کی تھی۔

،تصویر کا ذریعہReuters
سربراہ لیفٹیننٹ جنرل عبدالواحد السعدی کا کہنا تھا کہ فلوجہ کا قبضہ لینے کے دوران 1800 شدت پسند مارے گئے۔
دسیوں ہزار لوگوں نے نقل مکانی کی جن میں بوڑھے اور عورتیں اور بچے بھی شامل تھے۔ امدادی تنظیم نارویجیئن ریفیوجی کونسل کا کہنا ہے کہ یہ لوگ شدید گرمی میں کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہیں۔
وزیرِ اعظم نے اس شہر کا قبضہ دوبارہ حاصل کرنے کے لیے مئی میں آپریشن کا آغاز کیا تھا۔
فلوجہ مغربی صوبے انبار کا ایک بڑا شہر ہے یہ عراقی کا وہ پہلا شہر ہے جو دولتِ اسلامیہ کے قبضے میں آیا تھا۔
شدت پسند تنظیم نے اس کے بعد شام اور عراق کے کافی بڑے حصے پر قبضہ کر لیا تھا۔
حالیہ ہفتوں میں انھوں نے دونوں ممالک میں اپنے زیرِ قبضہ علاقے گنوائے ہیں۔
عراقی کے وزیرِ اعظم کا کہنا ہے کہ موصل شہر عراقی فورسز کا اگلا نشانہ ہے۔ یہ شہر بھی سنہ 2014 سے دولتِ اسلامیہ کے قبضے میں ہے اور عراقی فوج نے مارچ میں اس کے حصول کے لیے کارروائی کا آعاز کیا تھا۔







