دولت اسلامیہ کےجنگجوؤں کا جوابی حملہ

،تصویر کا ذریعہReuters
دولت اسلامیہ کےجنگجوؤں نےمنگل کی الصبح فلوجہ میں عراقی افواج پر تازہ حملہ کیا ہے جو شہر کو دولت اسلامیہ کے قبضے سے آزاد کرانے کی کوشش کر رہی ہیں۔
گذشتہ روز عراقی افواج نےدعویٰ کیا تھا کہ افواج نے فلوجہ کے علاقے نوایمایا میں پیش قدمی کی ہے۔
٭ <link type="page"><caption> فلوجہ کی آزادی کا راستہ کتنا دشوار گزار ہے؟</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2016/05/160523_falluja_muir_as.shtml" platform="highweb"/></link>
٭ <link type="page"><caption> فلوجہ میں عام شہریوں کو ’بڑا خطرہ‘ ہے: اقوامِ متحدہ</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2016/05/160524_falluja_warning_as.shtml" platform="highweb"/></link>
فلوجہ آپریشن کے کمانڈر نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ منگل کی الصبح ہونے والے دولت اسلامیہ کے حملے تو پسپا کر دیاگیا ہے لیکن اس میں دونوں جانب سے جانی نقصان ہوا ہے۔
امدادی کارکنوں نے فلوجہ میں پھنسے ہوئے پچاس ہزار عام شہریوں کی حفاظت کے بارے میں تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
ایسی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں کہ فلوجہ میں پھنسے ہوئے لوگ فاقہ کشی سے مر رہے ہیں اور آئی ایس کے ہمراہ لڑنے سے انکار کرنے پر لوگوں کو ہلاک کیا جا رہا ہے۔
عراقی فوج نے اعلان کیا تھا کہ انھوں نے دوبارہ شہر کا قبضہ حاصل کرنے کے لیے پوری شدت سے حملہ کیا ہے۔ عراقی افواج نے ابتدا میں کہا تھا کہ دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کی مزاحمت کے باوجود افواج پیش قدمی کر رہی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
عراقی فوج نے فلوجہ میں پھنسے ہوئےافراد سے کہا ہے کہ یا تو وہ شہر چھوڑ دیں اور اگر ایسا نہیں کر سکتے تو گھروں کے اندر رہیں۔

،تصویر کا ذریعہ
خود کو دولت اسلامیہ کہلوانے والی شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ نے سنہ 2014 میں اس شہر پر قبضہ کر لیا تھا۔ شمالی عراق میں موصل اور فلوجہ دو بڑے شہر ہیں جو دولت اسلامیہ کے قبضے میں ہیں۔
فلوجہ کوآزاد کرانے کے لیے جاری آپریشن کے کمانڈر لیفٹینٹ جنرل عبدل وہاب السعدی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ دولت اسلامیہ کے سو کے قریب جنگجوؤں نے افواج پر حملہ کیا ہے اور ان میں سے 75 جنگجو جوابی کارروائی میں مارے گئے ہیں۔
انھوں نے کہا :’بھاری اسلحے سے لیس حملہ آوروں نے زبردست حملہ کیا لیکن انھوں نے کار بموں اور خود کش حملہ آوروں کو استعمال نہیں کیا۔‘
سپیشل فورسز کے دو اہلکاروں نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ کو بتایا کہ جہادیوں نے بارود سے بھری ہوئی چھ کارروں کو حملے کے لیے بھیجا لیکن ان میں سے کوئی بھی اپنے ہدف تک نہ پہنچ سکیں۔
ایک اندازے کے مطابق اس شہر میں 50 ہزار کے قریب شہری پھنسے ہوئے ہیں جبکہ چند سو خاندان ہی بحفاظت نکلنے میں کامیاب ہو سکے ہیں۔
سرکاری بیان کے مطابق عراقی فوج اور انسداد دہشت گردی یونٹ کے دستے مختلف جانب سے شہر کی جانب بڑھ رہے ہیں۔








