فلوجہ میں عام شہریوں کو ’بڑا خطرہ‘ ہے: اقوامِ متحدہ

عراقی فورسز

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنعراقی فورسز فلوجہ کو دولتِ اسلامیہ سے خالی کرانے کے لیے حتمی جنگ کرنا چاہتی ہیں
    • مصنف, جِم موئر
    • عہدہ, بی بی سی نیوز، بغداد

عراقی فورسز کے فلوجہ میں دولتِ اسلامیہ سے لڑائی کے ساتھ ہی اقوامِ متحدہ نے شہر میں موجود 50,000 شہریوں کے بارے میں تشویش ظاہر کی ہے۔

اقوامِ متحدہ کے ترجمان سٹیفان ڈیوزہوریک کے مطابق فلوجہ میں موجود عام شہریوں کو ’بڑا خطرہ‘ ہے۔ انھوں نے ان کے شہر سے نکلنے کے لیے محفوظ راستے کے حصول کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

پیر کو فوج، پولیس اور ملیشیا نے بغداد کے مغرب میں 50 کلو میٹر دور فلوجہ شہر کو دولتِ اسلامیہ سے واپس لینے کے لیےکارروائی شروع کی تھی۔

اس شہر پر دولتِ اسلامیہ کا قبضہ عراق اور شام میں کسی بھی شہر پر سب سے زیادہ طویل قبضہ ہے۔

جہادی گروہ نے جنوری 2014 میں قبضہ کیا تھا۔ چھ ماہ بعد اس نے شمالی اور مغربی عراق کے ایک بڑے حصے پر قبضہ کر لیا۔

اگرچہ فلوجہ کو حاصل کرنے کی جنگ پیر کو شروع ہوئی لیکن عراقی فورسز نے اس کا محاصرہ کئی مہینوں سے کیا ہوا ہے۔

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ دسمبر میں جب سے قریبی شہر رمادی سے دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں کو باہر دھکیل دیا گیا اور سپلائی کے راستے کاٹ دیے گئے، یہاں کوئی امدادی سامان نہیں پہنچا ہے۔

فلوجہ میں رہنے والے 10,000 خاندانوں کو خوراک، دوائی اور دوسرے ضروری ساز و سامان کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ چیزوں کی قیمتیں ڈرامائی طور پر آسمان کو چھو رہی ہیں۔

اتوار کو عراقی فوج نے تمام شہریوں سے کہا تھا کہ وہ فلوجہ چھوڑ جائیں۔ جو ایسا نہیں کر سکتے انھیں کہا گیا کہ وہ دولتِ اسلامیہ کی صفوں اور اجتماعات سے دور رہیں۔

نیو یارک میں رپورٹروں سے بات کرتے ہوئے ڈیوزہوریک نے کہا: ’فوجی آپریشن کے شروع ہونے کے بعد ہمیں فلوجہ میں رہ جانے والے عام شہریوں کے بارے میں تشویش ہے۔‘

عراقی فورسز نے فلوجہ میں دولتِ اسلامیہ کی صفوں پر بمباری کی

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنعراقی فورسز نے فلوجہ میں دولتِ اسلامیہ کی صفوں پر بمباری کی

انھوں نے کہا کہ ’جب عام شہری وہاں سے نکلنے کی کوشش کریں گے تو وہ بڑے خطرے کی زد میں آ جائیں گے۔ اور اس لیے ضروری ہے کہ کچھ محفوظ راستے ہوں جنھیں وہ استعمال کر سکیں۔‘

اقوامِ متحدہ کی پناہ گزینوں کے متعلق ایجنسی یو این ایچ سی آر کی ترجمان لیلہ جین ناسف کے مطابق خیال ہے کہ جمعہ سے 80 خاندان فلوجہ چھوڑ کر جا چکے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ فرار ہوتے ہوئے کچھ افراد کی جانیں بھی گئیں جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔