فالوجہ میں ایک ہپستال سرکاری فوج کا نشانہ

،تصویر کا ذریعہReuters
عراق کے شہر فالوجہ میں دولت اسلامیہ کے زیر تسلط علاقے میں ایک ہسپتال عراق کی سرکاری فوج کی بمباری میں نشانہ بن گیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق یہ ہسپتال عراقی وزیر اعظم حیدر العابدی کی طرف سے جاری ہونے والے اس بیان کے ایک روز بعد نشانہ بنا جس میں انھوں نے دولت اسلامیہ کے زیر قبضہ شہری علاقوں پر بمباری کرنے سے منع کیا تھا۔
ہسپتال کے طبی عملے نے بی بی سی کو بتایا کہ عملے کا ایک رکن بھی اس حملے میں شدید زخمی ہو گیا ہے۔
فالوجہ اور رمادی کا کہنا ہے کہ وہ جہادیوں کے بجائے سرکاری فوج کی بمباری سے زیادہ خطرہ محسوس کرتے ہیں۔
سنی اکثریتی صوبے انبار میں واقع ان دونوں شہروں پر دولت اسلامیہ نے دسمبر 2013 میں قبضہ کر لیا تھا۔
طبی عملے میں شامل ایک شحض نے بی بی سی عربی کو بتایا کہ پانچ کلو میٹر دور ایک فوجی اڈے سے داغے جانے والے چار میزائیل ہسپتال پر گرے۔ عراقی ذرائع ابلاغ میں اس سلسلے میں معتضاد خبریں گردش کر رہی ہیں۔



