فلوجہ کی آزادی کا راستہ کتنا دشوار گزار ہے؟

عراقی فوج

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنفلوجہ شہر پر اتنی بمباری ہو چکی ہے کہ ہو سکتا ہے کہ دولتِ اسلامیہ کی اسے دفاع کرنے کی صلاحیت بہت کم رہ گئی ہو
    • مصنف, جِم موئر
    • عہدہ, بی بی سی نیوز، بغداد

ایسا لگتا ہے کہ شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ سے عراق کے اہم شہر فلوجہ کا کنٹرول واپس حاصل کرنے کے لیے لڑی جانے والی جنگ کا وقت آ گیا ہے۔

جنوری 2014 میں شہر شدت پسندوں کے قبضے میں آ گیا تھا اور اس کے بعد سے اب تک اس پر کئی مرتبہ حملے کیے گئے ہیں، بم پھینکے گئے ہیں اور شیلنگ ہوئی ہے۔

اس شہر نے بڑے پیمانے پر تباہی اور ہلاکتیں برداشت کی ہیں۔

اب حکومت نے اسے ’بریک ٹیررزم‘ یا دہشت گردی کے خاتمے کے آپریشن کے ذریعے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے آزاد کرانے کا عہد کیا ہے۔

اس حملے کے لیے ہزاروں فوجی، خصوصی فوجی دستے، شیعہ ملیشیا اور قبائلی سنی جنگجوؤں کو اکٹھا کیا گیا ہے اور وزیرِ اعظم نے اسے ’عظیم فتح کا لمحہ قرار دیا ہے۔‘

لیکن یہ جنگ کتنی سخت ہو گی اس پر متضاد اندازے لگائے گئے ہیں۔

کچھ کا کہنا ہے کہ دولتِ اسلامیہ پر شہر میں اتنی بمباری ہو چکی ہے کہ اس کی مزاحمت کرنے کی صلاحیت ختم ہو چکی ہو گی۔ لیکن دوسرے جن کے شہر میں موجود ذرائع سے تعلقات ہیں کہتے ہیں کہ دولتِ اسلامیہ کے جنگجو اس حملے کے لیے بہت پہلے سے تیاری کر رہے تھے اور انھوں نے دفاع کے لیے پوری صف آرائی کر رکھی ہے جس میں سڑک کے کنارے نصب بم اور بوبی ٹریپ بھی شامل ہیں۔

کئی ہفتوں کی لڑائی

زیادہ تر جنگجوؤں کا تعلق فلوجہ شہر یا اس کے آس پاس کے علاقوں مثلاً جرف ال صخر سے ہے جس پر ایران کی حمایت یافتہ شیعہ ملیشیا کا قبضہ ہو چکا ہے۔

ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ جنگجو کتنی مزاحمت کریں گے۔ لیکن حکومت میں سب سے زیادہ رجائیت پسند بھی سمجھتے ہیں کہ یہ جنگ کم از کم دو یا تین ہفتے جاری رہے گی۔

دولتِ اسلامیہ کے جنگجو

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشندولتِ اسلامیہ نے 2014 میں فلوجہ پر کنٹرول سنبھالا تھا

حال ہی میں اس طرح کا حملہ انبار صوبے کے دارالحکومت رمادی پر کیا گیا تھا۔ فلوجہ بھی ال انبار صوبے کا ہی ایک شہر ہے۔

حکومت نے جنوری کے اوائل میں ہی وہاں فتح کا اعلان کر دیا تھا لیکن شہر کے مضافاتی اور قریبی علاقوں کو محفوظ بنانے میں کئی ہفتے لگ گئے تھے۔

موصل کا راستہ

فلوجہ جیسے مشہور شہر کا ہاتھ سے نکل جانا دولتِ اسلامیہ کے لیے ایک بڑا جھٹکا ہو گا۔

بغداد سے شام اور اردن جانے والی شاہراہ پر واقع یہ شہر سنی مزاحمت کا گڑھ رہا ہے۔یہ 2004 میں امریکیوں کے خلاف مزاحمت کا نشان بن گیا تھا اور پر تشدد لڑائیوں میں بڑے پیمانے پر تباہی اور ہلاکتیں ہوئی تھیں۔

جب 2014 میں دولتِ اسلامیہ نے اس شہر پر قبضہ کیا تھا تو اس وقت فلوجہ پہلے ہی مرکزی حکومت کے خلاف بغاوت کا اعلان کر چکا تھا۔

موصل میں جنگجو

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشناگر فلوجہ کی مہم کامیاب رہتی ہے تو پھر اگلا مرحلہ موصل کی طرف پیش قدمی ہو گا

اگر حکومت اس پر آسانی اور تیزی سے قبضہ کر لیتی ہے تو بغداد کی حوصلہ افزائی ہو گی کہ وہ شمال کی جانب اپنے سب سے بڑے چیلنج ’موصل کی جنگ‘ کے لیے زیادہ فوج اور ذرائع مختص کر سکے۔

لیکن اگر دولتِ اسلامیہ فلوجہ کھونے کے باوجود حملہ آوور فوج، خصوصاً الیٹ ٹیررازم فورس، کا بھاری نقصان کرتی ہے تو اس سال موصل پر قبضے کی امیدوں کو دھچکہ لگ سکتا ہے۔

فرقہ وارانہ نتائج

فلوجہ اس لیے بھی اہم ہو گا کہ اسے حاصل کرنے کے جنگی آپریشن میں کون سی فورسز حصہ لیتی ہیں اور بعد میں کون یہاں موجود ہے گا۔

ایران کی حمایت یافتہ شیعہ ملیشیا بھی اس ’بریک ٹیررازم‘ آپریشن میں حصہ لے رہی ہے۔

لیکن بظاہر لگتا ہے کہ اس طرح کا کوئی معاہدہ ہو گیا ہے کہ وہ ارد گرد کے علاقوں میں اپنا کردار کریں گے لیکن فرقہ واریت کے خدشات کی وجہ سے ان کی تعیناتی فلوجہ میں نہیں ہو گی۔

ماضی میں اس طرح کی کارروائیوں میں جہاں انھوں نے مرکزی کردار ادا کیا تھا جیسا کہ بغداد کے مشرق اور شمال میں دیالہ اور تکریت وغیرہ کے علاقے، شیعہ ملیشیا پر بدلہ لینے کے لیے ہلاکتوں اور سنیوں کی جائیدادوں کو نقصان پہنچانے کے الزامات لگائے گئے تھے۔

اگر فلوجہ اس آپریشن میں بالکل تباہ ہو جاتا ہے اور زیادہ تر آبادی کو نقل مکانی کرنا پڑتی ہے تو یہ بھی موصل پر قبضے کی مہم کے لیے اچھا نہیں ہو گا، جو کہ سنی اکثریت کا ایک اور علاقہ ہے۔