’فلوجہ شہر میں انسانی بحران کا خطرہ‘

آین آر سی کے مطابق لوگوں کی تعداد میں اضافے کے سبب امدادی سامان خطرناک حد تک کم ہو رہا ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنآین آر سی کے مطابق لوگوں کی تعداد میں اضافے کے سبب امدادی سامان خطرناک حد تک کم ہو رہا ہے

امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ عراقی فوج کے فلوجہ شہر پر قبضے کے بعد بڑی تعداد میں شہریوں کی نقل مکانی سے انسانی بحران کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ فلوجہ کو دولتِ اسلامیہ کے قبضے سے چھڑانے کے لیے حکومتی فورسز کی چار ہفتوں تک جاری رہنے والی کارروائی میں 80،000 لوگوں نے نقل مکانی کی۔

* <link type="page"><caption> فلوجہ میں ’زیرحراست افراد پر شیعہ ملیشیا کا تشدد‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2016/06/160606_anbar_shia_militia_torture_sh.shtml" platform="highweb"/></link>

* <link type="page"><caption> فلوجہ کی جنگ: ’آپ اتنی جلدی میں کیوں ہیں؟‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2016/06/160602_falluja_iraq_army_islamic_state_rh.shtml" platform="highweb"/></link>

ادارے کے مطابق خدشہ ہے کہ مزید 25،000 شہری بھی نقل مکانی کریں گے۔

امدادی کارکنوں کو شہر سے باہر بنے کیمپوں میں مقیم لوگوں تک کھانا، پانی اور ادویات پہنچانے میں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ یہ کیمپ لوگوں سے بھرے ہوئے ہیں۔

نارویجیئن رفيوجی کونسل (این آر سی) کے ناصر مفلاحی کا کہنا ہے، ’فلوجہ سے بھاری تعداد میں لوگوں کی نقل مکانی کی وجہ سے ان کی ضروریات کو پورا کرنے میں ہم پوری طرح ناکام ثابت ہو رہے ہیں۔‘

کئی لوگ کھلے آسمان تلے سونے جبکہ دن میں47 ڈگری سینٹی گریڈ کے درجۂ حرارت میں رہنے پر مجبور ہیں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنکئی لوگ کھلے آسمان تلے سونے جبکہ دن میں47 ڈگری سینٹی گریڈ کے درجۂ حرارت میں رہنے پر مجبور ہیں

ان کے بقول ’ہم عراق کی حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ آنے والی انسانی بحران کو سنبھالنے کی ذمہ داری لیں۔‘

عراقی فوج کی جانب سے فلوجہ شہر پر قبضہ واپس لینے کے باوجود اب بھی شہر کے مختلف حصوں میں مزاحمت جاری ہے۔

لڑائی کے باعث گھر بار چھوڑنے والے کئی لوگ کھلے آسمان تلے سونے جبکہ دن میں47 ڈگری سینٹی گریڈ کے درجۂ حرارت میں رہنے پر مجبور ہیں۔

آین آر سی کے مطابق لوگوں کی تعداد میں اضافے کے سبب امدادی سامان خطرناک حد تک کم ہو رہا ہے۔ ایک کیمپ میں 1800 خواتین کے لیے صرف ایک بیت الخلا ہے۔

وزیرِ اعظم حیدر العبادی کی حکومت لڑائی کے باعث بے گھر ہونے والے 34 لاکھ افراد کی ضروریات پوری کرنے میں پہلے ہی ناکام ہو چکی ہے۔

اطلاعات ہیں کہ بعض شہریوں کو دولتِ اسلامیہ انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر ہی ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ بعض علاقوں میں فورسز کی پیش قدمی سست ہے۔ فوج کو امریکی فضائی طیاروں کی مدد حاصل ہے۔

دولتِ اسلامیہ نے اس شمالی شہر ہر سنہ 2014 میں قبضہ کیا تھا۔

آین آر سی کے مطابق ایک کیمپ میں 1800 خواتین کے لیے صرف ایک بیت الخلا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنآین آر سی کے مطابق ایک کیمپ میں 1800 خواتین کے لیے صرف ایک بیت الخلا ہے