حلب میں کشیدگی، ’حکومتی جنگی طیاروں کی بمباری‘

گذشتہ کئی برسوں سے حلب شہر باغیوں اور حکومت کے درمیان تقسیم ہو کر رہ گیا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنگذشتہ کئی برسوں سے حلب شہر باغیوں اور حکومت کے درمیان تقسیم ہو کر رہ گیا ہے

شام میں سرگرم افراد کا کہنا ہے کہ روس کے تعاون سے حکومتی افواج کے جنگی جہازوں نے حلب کے اردگرد شدید بمباری کی ہے۔

سیئرین آوبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کا کہنا ہے کہ حکومتی افواج نے باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں میں بمباری کی اور ہیلی کاپٹروں سے بیرل بم پھینکے۔

امداری کارکنوں کا کہنا ہے کہ مختلف علاقوں میں عمارتوں کے ملبے سے کم سے کم 20 لاشیں نکالی گئی ہیں۔

دوسری جانب شام کے سرکاری ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ باغیوں نے حکومت کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں میزائل گرائے ہیں۔

سرکاری میڈیا کے مطابق ان حملوں میں متعدد افراد ہلاک ہوئے ہیں اور کئی زخمی ہوئے ہیں۔

حکومت کا کہنا ہے کہ سنیچر کو باغیوں کی جانب سے اسی نوعیت کے ایک حملے میں کم سے کم 24 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

گذشتہ کئی برسوں سے حلب شہر باغیوں اور حکومت کے درمیان تقسیم ہو کر رہ گیا ہے۔

فروری میں ہونے والے جنگ بندی کے معاہدے کے باوجود شمالی شہر میں شدید بمباری ہو رہی ہے۔