’حلب میں اگلے چند گھنٹوں میں جنگ بندی کی امید ہے‘

،تصویر کا ذریعہRIA Novosti
روس کے وزیرِ خارجہ سرگے لاوروف کے بقول انھیں امید ہے کہ اگلے چند گھنٹوں میں شام کے سب سے بڑے شہر حلب میں جنگ بندی ہو جائے گی۔
ماسکو میں شام کے لیے اقوامِ متحدہ کے خصوصی مندب سے بات چیت کے بعد روسی وزیرِ خارجہ سرگے لاوروف نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ شامی حکومت اور حزبِ مخالف کو مل کر ملک میں خانہ جنگی کا حل تلاش کر نا چاہیے۔
شام کے لیے اقوامِ متحدہ کے خصوصی مندوب سٹیفن مستورا حلب میں جنگ بندی کے سلسلے میں بات چیت کرنے کے لیے روسی دارالحکومت ماسکو میں موجود ہیں۔
خیال رہے کہ اس سے قبل پیر کو امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے کہا تھا کہ جنیوا میں موجود مندوبین شام میں جنگ بندی پر اتفاقِ رائے کے بہت قریب ہیں۔
ذرائع ابلاغ کے نمائندؤں سے بات کرتے ہوئے جان کیری کا کہنا تھا کہ شام کے شہر حلب میں پرتشدد کارروائیوں کی روک تھام کے لیے پیش کیے گئے منصوبے پر پیش رفت ہوئی ہے۔
جان کیری نے شام کی حکومت پر جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف وزی اور متاثرہ علاقوں میں امداد کی فراہمی میں روکاٹ ڈالنے کیا الزام بھی عائد کیا ہے۔
گذشتہ دس دنوں میں حلب میں 250 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty
امریکہ چاہتا ہے کہ روس اپنے اتحادی شام کی حکومت پر اس بات کے لیے دباؤ ڈالے کہ وہ حلب پر اپنی بلاامتیاز بمباری روکے۔لیکن روس اور شام کی حکومت کا مؤقف ہے کہ حلب میں بمباری کا نشانہ دہشت گرد گروپ نصرا فرنٹ ہے جو فروری میں ہونے والے جنگ بندی کا معاہدہ کا حصہ نہیں تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
گذشتہ چند ماہ میں صدر بشار الاسد کی حمایتی فوج اور اعتدال پسند باغیوں کے بیچ شام میں جنگ بندی کا معاہدہ ختم ہو گیا تھا خاص طور سے حکومت اور حزب مخالف کے درمیان تقسیم اور محاصرہ کے شکار شہر حلب میں۔
شام کے سب سے بڑے شہر میں شدید تباہی ہوئی ہے جس کے نتیجے میں مہینوں تک مقامی شہریوں کو پانی اور بجلی مہیا نہیں ہو سکی۔
رپورٹ کے مطابق حلب میں اتوار کے دن باقی دنوں کی نسبت حکومتی فوج اور باغیوں کی جانب سے فضائی بمباری کے باوجود خاموشی رہی۔
جنیوا میں اقوام متحدہ کے حمایت یافتہ امن مذاکرات کا نیا سلسلہ 10 مئی کو شروع ہو گا۔







