بغداد: پارلیمان کے باہردھرنا ختم، مظاہرین کی واپسی

مظاہرین نئی کابینہ کی منظوری میں تاخیر پر ناراض ہیں

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنمظاہرین نئی کابینہ کی منظوری میں تاخیر پر ناراض ہیں

عراق کے دارالحکومت بغداد کے گرین زون میں ہزاروں کی تعداد میں مقتدیٰ الصدر کے حامی شیعہ مظاہرین نے دھرنا ختم کرتے ہوئے واپس جانا شروع کر دیا ہے۔

مظاہرین نے سنیچر کو پارلیمان کی عمارت پر دھاوا بولنے کے بعد عمارت کے باہر ڈیرا ڈال رکھا تھا۔

منتظمین کی جانب سے لاؤڈ سپیکرز پر گرین زون میں دھرنا ختم کرنے کے اعلانات کیے گئے۔

اس سے قبل وزیر اعظم حیدر العبادی نے پارلیمان پر دھاوا بولنے والے مظاہرین کی گرفتاری کا حکم دیا تھا۔

یہ گرین زون بغداد کا وہ علاقہ ہے جہاں سخت ترین سکیورٹی میں دنیا کے سفارتخانے، اہم دفاتر اور عمارتیں واقع ہیں۔

مظاہرین کی بڑی تعداد شیعہ رہنما مقتدیٰ الصدر کے حامیوں پر مشتمل تھی اور وہ نئی کابینہ کی منظوری میں تاخیر پر ناراض تھے۔

 منتظمین کی جانب سے اتوار کی شام مظاہرہ ختم کرنے کی اعلان کیا گیا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشن منتظمین کی جانب سے اتوار کی شام مظاہرہ ختم کرنے کی اعلان کیا گیا

مظاہرین کی جانب سے اصلاحات کو نظر انداز کرنے کا الزام حکومت پر عائد کیا جارہا ہے جبکہ حکومت خود کو دولت اسلامیہ کہلوانے والی شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے خلاف جنگ اور تیل کی پیداوار میں کمی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔

دولت اسلامیہ عراق کے مغربی اور شمالی علاقوں پر قابض ہے اور اس نے اتوار کو جنوبی شہر سماوہ میں ہونے والے دو خودکش حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے جس میں کم از کم 33 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق مظاہرے کے منتظمین کی جانب سے اتوار کی شام مظاہرہ ختم کرنے کی اعلان ایک مذہبی دن کے احترام کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP

خیال رہے کہ حیدر العبادی نے 2014 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد کہا تھا کہ وہ ملک سے کرپشن اور فرقہ وارانہ کشیدگی کو ختم کر دیں گے لیکن ابھی تک وہ اس میں ناکام ثابت ہوئے ہیں۔

مقتدیٰ الصدر عراق میں مہدی آرمی نامی ملیشیا کے سربراہ ہیں جنھوں نے ملک میں امریکہ کے خلاف زبردست مہم شروع کر رکھی تھی۔

سنہ 2006 تا 2007 میں ان کی عسکری تنظیم پر ہزراوں سنیوں کو تشدد کر کے قتل کرنے کا بھی الزام ہے۔ اس دوران وہ ایران فرار ہوگئے تھے۔

وہ 2011 میں ایران سے دوبارہ عراق واپس آ گئے تھے اور عراقیوں کو امن کے لیے متحد ہونے کی اپیل کی تھی۔