عراق: اصلاحات کے حق میں بڑے مظاہرے کی کال

عراق کے دارالحکومت بغداد میں سیاسی بحران اور حکومت کی جانب سے اصلاحات نہ کرنے کے خلاف مظاہرے کا اعلان کیا گیا ہے۔
منگل کو ہونے والے اس مظاہرے میں بڑی تعداد میں عوام کی شرکت کا امکان ہے۔
حکومت کے خلاف اس مظاہرے کا اعلان عراق میں شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے با اثر مذہبی رہنما مقتدیٰ الصدر نے کیا ہے۔
اُن کی جانب سے مظاہرے کا اعلان ایسے موقعے پر سامنے آیا ہے جب ملک میں تین ہفتے سے جاری تعطل کے بعد پارلیمان نئی کابینہ کے لیے ووٹ ڈالے گی۔
عراق میں سیاسی اصلاحات کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ملک کے وزیراعظم حیدر العبادی کے اصلاحاتی پروگرام کا سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ کابینہ میں شامل مختلف جماعتوں سے تعلق رکھنے والے وزرا کی بجائے ٹیکنوکریٹس کو کابینہ میں شامل کیا جائے۔
واضح رہے کہ گذشتہ سال شدید گرمی کے دوران بجلی کی قلت کے باعث عوام نے ملک بھر میں حیدر العبادی کی حکومت کے خلاف مظاہرے کیے تھے۔
بغداد اور دیگر شہروں میں ہونے والے ان مظاہروں میں ہزاروں افراد نے شرکت کر کے اپنے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے حکام پر نظام میں تبدیلیاں لانے کے لیے دباؤ ڈالا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
عراق سے امریکی افواج کے انخلا کے بعد سے ملک میں سیاسی بحران پیدا ہو گیا ہے۔
بغداد میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ سنہ 2003 میں صدام حکومت کے خاتمے کے بعد سے یہ اب تک عراق کا بدترین سیاسی بحران ہے۔
گذشتہ سال ملک بھر میں ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں کے بعد وزیراعظم حیدر العبادی نے بدعنوانی کے خاتمے اور حکومتی اخراجات میں کمی سے متعلق اصلاحات متعارف کروائی تھیں، جن کے تحت ملک میں بدعنوانی کے خاتمے کے لیے بڑی تعداد میںغیر سیاسی لوگوں کی اہم عہدوں پر تعیناتی بھی شامل تھی۔







