بغداد کے گرین زون کو عوام کے لیے کھولنے کا حکم

،تصویر کا ذریعہGetty
عراق کے وزیراعظم حیدر العابدی نے بغداد کے سب سے زیادہ قلعہ بند علاقے کو جسے گرین زون بھی کہا جاتا ہے عام شہریوں کے لیے کھولنے کا حکم دیا ہے۔
گرین زون دس کلومیٹر کا وہ علاقہ ہے جہاں حکومتی عمارتیں بنی ہوئی ہیں۔
سنہ 2003 میں امریکہ کی قبضے کے بعد سکیورٹی اقدامات کے پیشِ نظر وہاں سے عام شہریوں کا داخلہ ممنوع قرار دے دیا گیا تھا۔
عراقی وزیراعظم نے چیک پوسٹوں اور بیریئرز کو سڑکوں اور گلیوں اور دیگر جگہوں سے ہٹانے کا حکم دیا ہے۔
جمعے کے روز وزیراعظم نے گرین زون کے لیے موجود پابندیاں ہٹانے کی ہدایات جاری کیں تاہم ابھی یہ نہیں معلوم کہ ان کا یہ حکم کب سے لاگو ہوگا۔
ملک کے وزیراعظم کی جانب سے تواتر سے ایسے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں کہ جن کی مدد سے فرقہ ورانہ کشیدگی کو کم کیا جا سکے اور کرپشن کا خاتمہ کیا جا سکے۔
خیال رہے کہ بغداد میں اختیارات کے ناجائز استعمال اور ناقص سہولیات کے خلاف کئی ہفتے تک عوامی احتجاج جاری رہا۔

،تصویر کا ذریعہGetty
اس ماہ کے آغاز میں غیر معمولی طور پر حکومتی ایوانوں میں اس وقت اتحاد دکھائی دیا جب پارلیمنٹ نے وزیراعظم عابدی کی جانب سے بہت سے حکومتی عہدوں کو ختم کرنے اور اخراجات میں کمی کرنے پر ان کی حمایت کی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ضلع کرخ میں واقع یہ کمپاؤنڈ کنکریٹ کی دیواروں میں گھرا ہوا ہے اور اس کی سکیورٹی کے لیے بھاری تعداد میں ٹینک تعینات اور چیک پوسٹیں قائم ہیں۔
یہاں سابق عراقی صدر صدام حسین کے محلات بھی واقع ہیں جو کہ بعد میں امریکی قبضے کے بعد انتظامیہ کے ہیڈکواٹر کے طور پر زیرِاستعمال تھے۔
اس کے علاوہ وہاں امریکہ اور برطانیہ سمیت بہت سے غیر مکی سفارت خانے بھی قائم ہیں۔
خبررساں ادارے اے ایف پی کا کہنا ہے کہ بہت سے عراقیوں کو گرین زون میں خصوصی اجازت نامے کے بغیر داخلے کی اجازت نہیں تھی اور بہت سے لوگوں کو داخلے کے سخت قواعد کی بنا پر بھاری رشوت دینی پڑی۔
کئی سالوں تک اس علاقے کو بموں اور راکٹوں سے نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔







