ترکی اور یورپی یونین کے معاہدے سے نتائج مل رہے ہیں: ڈونلڈ ٹسک

انگیلا میرکل کو پناہ گزینوں کے حوالے سے پالیسیز پر جرمنی میں کافی مخالفت کا سامنا ہے

،تصویر کا ذریعہREUTERS

،تصویر کا کیپشنانگیلا میرکل کو پناہ گزینوں کے حوالے سے پالیسیز پر جرمنی میں کافی مخالفت کا سامنا ہے

یورپین کونسل کے صدر ڈونلڈ ٹسک کا کہنا ہے کہ گذشتہ ماہ ترکی اور یورپی یونین کے درمیان تارکینِ وطن کے حوالے سے طے پانے والے معاہدے کے نتائج مل رہے ہیں۔

ترکی صدر احمد اوغلو اور جرمن چانسلر آنگیلا میرکل کے ہمراہ ترکی میں تارکینِ وطن کے کیمپ کا دورہ کرنے کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں ڈونلڈ ٹسک کا کہنا تھا کہ غیرقانونی تارکینِ وطن کی آمد میں کمی آئی ہے۔

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والوں نے یورپی یونین کے حکام کے ترکی کے حالیہ دورے کو اپنی غلطی کو صاف کرنے کی کوشش قرار دیا ہے تاہم یورپی یونین کے صدر کا کہنا ہے کہ ترکی’پناہ گزینوں سے برتاؤ‘ کے حوالے سے دنیا کی سب سے بہترین مثال ہے۔

اس موقع پر ترک صدر نے ایک بار پھر یورپ میں ترک باشندوں کے سفر کے لیے فری ویزا پالیسی پر عملدرآمد ممکن بنانے پر زور دیا۔

مارچ میں طے پانے والے اس معاہدے میں کوشش کی گئی تھی کہ شامی، عراقی باشندوں کی سمندر کے ذریعے ترکی اور یونان کے درمیان سفر کو روکا جا سکے۔

نیزپ کیمپ میں 5000 پناہ گزین مقیم ہیں

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشننیزپ کیمپ میں 5000 پناہ گزین مقیم ہیں

جرمن چانسلر اور یورپی یونین کے حکام کے دورہ ترکی کا مقصد شامی سرحد سے ملحقہ علاقے گازیانتیپ میں پناہ گزینوں کی صورتحال سے آگاہ ہونا تھا۔

انھوں نے نیزپ کیمپ میں پناہ گزینوں کو دی جانے والی سہولیات کا جائزہ لیا جہاں 5000 پناہ گزین مقیم ہیں۔

انسانی حقوق کے گروہوں کا کہنا ہے کہ ترکی پناہ گزینوں کی واپسی کے لیے محفوظ جگہ نہیں ہے۔

جرمن چانسلر انگیلا میرکل شامی سرحد کے قریب جنوبی شہر گازیانتیپ پہنچیں تو ترک وزیراعظم احمد اوغلو نے ان کا استقبال کیا۔ جہاں بعد ازاں یورپین کونسل کے صدر ڈونلڈ ٹسک اور نائب صدر فرانز ٹیمرمین بھی ان سے آملے۔

انگیلا میرکل کو پناہ گزینوں کے حوالے سے پالیسیز پر جرمنی میں کافی مخالفت کا سامنا ہے تاہم انھوں نے ترکی کے ساتھ معاہدہ کا دفاع کیا ہے۔

ترکی اور یورپی یونین کے درمیان پناہ گزینیوں کے لیے طے پانے والے معاہدے کے بارے میں ہر ایک یہ ماننے کے لیے تیار نہیں کہ یہ بہتر طور پر چل رہا ہے۔

ترکی سے یونان پہنچنے والے پناہ گزینوں کی تعداد میں 80 فیصد تک کمی آئی ہے۔ یورپی ممالکمزید پناہ گزینوں کو لینے سے کترا رہے ہیں۔