پناہ گزینوں کا بحران: ایمنسٹی کی یورپی یونین پر تنقید

،تصویر کا ذریعہAP
انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ترکی کے ساتھ پناہ گزینوں کے متعلق معاہدے کے لیے یورپی رہنماؤں پر ’دوہرے معیار‘ برتنے کا الزام لگایا ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ اس معاہدے نے ’پناہ گزینوں کے عالمی بحران سے یورپی یونین کے منھ پھیرنے کے سخت رویے کو واضح کر دیا ہے۔‘
اس منصوبے کہ تحت جو پناہ گزین یونان کے ساحل پر وارد ہوں گے اگر پناہ حاصل کرنے کے ان کے دعووں کو مسترد کر دیا گيا تو انھیں ترکی واپس بھیج دیا جائے گا اور اس کے بدلے ترکی کو امداد اور سیاسی مراعات ملیں گیں۔
یورپ اور وسط ایشیا کے لیے ایمنسٹی انٹرنیشنل کے ڈائرکٹر جان ڈلہاؤزین نے کہا یورپی یونین کے ذریعے بین الاقوامی اور یورپی قوانین کی پاسداری کے عہد کے تحت ’یورپ میں پناہ گزینوں کے تحفظ کے قانون کو شیرینی میں بجھی ہوئي زہر کی گولی کی طرح کھانے پر مجبور کیا گيا ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا: ’اتوار سے جس طرح یونان کے جزائر پر آنے والے تمام غیر مستقل پناہ گزینوں کو ترکی بھیجنے کا معاہدہ کیا گیا ہے وہ بین الاقوامی قوانین کی ذمہ دارانہ پاسداری کی ضمانت نہیں ہے۔‘
ڈلہاؤزین نے کہا ہے کہ ’ترکی پناہ گزینوں کے لیے محفوظ ملک نہیں ہے اور کسی بھی پناہ گزین کو ان کے دعوے کی بنیاد پر واپس بھیجنا غلط ہے، غیر قانونی اور غیر اخلاقی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty
برسلز میں ہونے والی سربراہی کانفرنس میں سامنے آنے والے منصوبے سے یہ امید کی جارہی تھی کہ ترکی سے یونان جانے کے لیے سمندر کے خطرناک راستے کو اختیار کرنے سے لوگوں کو روکا جا سکے گا۔
معاہدے کے ایک حصے کے طور پر یورپی ممالک ترکی میں پہلے سے رہنے والے شامی پناہ گزینوں کو از سر نو آباد کریں گے۔ یورپی رہنماؤں نے اس معاہدے کا استقبال کیا ہے لیکن جرمنی کی چانسلر اینگیلا میرکل نے قانونی چیلنجز کے لیے متنبہ کیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بعض یورپی رہنماؤں نے ترکی میں انسانی حقوق کے ریکارڈ پر خدشات کا اظہار کیا ہے جبکہ ترکی کے وزیر اعظم احمد داؤد اغلو نے اسے ’تاریخی‘ قرار دیا ہے۔







