یونان میں ہزاروں پناہ گزین ابتر حالات میں محصور: ایمنسٹی

،تصویر کا ذریعہAP
انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنیسٹی انٹرنیشنل کی حالیہ رپورٹ کے مطابق اس وقت یونان میں 46 ہزار سے زائد پناہ گزین اور تارکین وطن انتہائی ابتر حالات میں گھرے ہوئے ہیں۔
رواں سال سات مارچ کو مقدونیہ کی جانب سے سرحد بند کرنے کے بعد محصور ہوجانے والے پناہ گزینوں کی زیادہ تر تعداد عورتوں اور بچوں پر مشتمل ہے۔
اپنی تازہ رپورٹ ’یونان میں محصور پناہ گزینوں کا اجتناب پذیر بحران‘ میں انسانی حقوق کی تنظیم کا کہنا ہے کہ اگر یورپی یونین کے ممالک بروقت اور صحیح طریقے سے کارروائی کرتے تو ان بڑھتے ہوئے مسائل سے گریز کیا جا سکتا تھا۔
ایمنیسٹی کا کہنا ہے کہ یونان میں پناہ گزینوں کے لیے مہیا کردہ عارضی رہائش کی جگہوں پہ گنجائش سے زائد لوگ رہنے پر مجبور ہیں، پناہ گزین مستقل غیر یقینی صورتِ حال اور خوف کی فضا میں رہ رہے ہیں۔ نہ تو ان کے پاس دوسروں کی نگاہوں سے اوجھل کوئی ذاتی جگہ ہے اور نہ گرمی پہنچانے والا کوئی نظام ہے یا بیت الخلا کی سہولت میسر ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
ایمنیسٹی انٹرنیشنل کے یورپ اور وسطی ایشیا کے ڈائریکٹر جان ڈال ہیوزن کہتے ہیں: ’پناہ کے متلاشی ہزاروں افراد، جن کی اکثریت خواتین اور بچوں پر مشتمل ہے، یورپی یونین کے ممالک کی جانب سے فیصلہ کن کارروائی میں ناکامی کے باعث یونان میں محصور ہو کے رہ گئے ہیں۔
’اگر یورپی یونین کے رہنماؤں نے پناہ گزینوں کی جلد از جلد نقل مکانی اور ان کی رہائش کی بہتر سہولیات مہیا کرنے کے لیے اقدامات کرنے کے اپنے وعدے پر عمل نہیں کیا تو انھیں خود پیدا کردہ انسانی بحران کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘
رواں سال 12 اپریل کو یورپی کمیشن کی جانب سے شائع ہونے والی معلومات کے مطابق ستمبر 2015 میں تقریباً 66400 پناہ کے متلاشی افراد کی نقل مکانی کا کہا گیا تھا جبکہ ان میں سے اب تک محض 615 کو یورپی یونین کے دیگر ممالک میں منتقل کیا گیا ہے۔
یونان کے سرحدی گاؤں آئیڈومنی میں عارضی خیمہ بستی میں مقیم نو ماہ کی حاملہ شامی خاتون نے ایمنیسٹی انٹرنیشنل کو بتایا کہ ’یہاں صورت حال بہت خراب ہے اور ہم زمین پر سونے پہ مجبور ہیں۔ ہمارے کمبل بھی پانی سے گیلے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ بیمار پڑ رہے ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

یونان کے شہر ایتھنز کے نواحی علاقے ایلی نکو کے غیر مستعمل بین الاقوامی ہوائی اڈے پر عارضی طور پر مقیم ایک افغان پناہ گزین کا کہنا تھا کہ ’یہاں مکمل انتشار ہے۔ یہاں کچھ بھی نہیں ہے۔ سب لوگ پرانے ٹرمینل کے بڑے ہال میں زمین پر سوتے ہیں۔ یہاں بیت الخلا ہے لیکن وہ بہت ہی گندہ ہے۔ میں وہاں اندر نہیں جاتا، وہاں بہت بدبو ہے۔‘
کئی پناہ گزین مغربی یورپ کی جانب سفر کے خواہشمند تھے تاکہ وہاں مقیم اپنے گھر والوں کے پاس پہنچ سکیں۔ تاہم مقدونیہ کی سرحد بند ہونے کے بعد اکثریت لاعلم تھی کہ اب آگے بڑھنے کے لیے کیا کیا جائے۔
جہاں لوگ اپنے حقوق کے بارے میں آگاہی نہ ہونے کے باعث مشکلات کا شکار ہیں وہیں حکام مخصوص نگہداشت کے متقاضی پناہ گزینوں اور تارکین وطن کے بارے میں لاعلم ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
خواتین کا کہنا ہے کہ وہ خود کو غیرمحفوظ محسوس کرتی ہیں اور انھیں کیمپوں میں موجود مردوں سے خطرہ محسوس ہوتا ہے۔
ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے ان بچوں سے بھی بات کی جن کے ساتھ ان کے گھر کے افراد نہیں تھے۔ جب تک ان بچوں کو نگہداشت کے کسی ادارے میں منتقل نہیں کر دیا جاتا انھیں 15 روز تک پولیس کی تحویل میں رہنا پڑتا ہے۔
ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے یونان سے کہا ہے کہ وہ فوری طور پر ملک کے پناہ کے نظام کو بہتر بنائے اور ملک میں پھنسے تمام پناہ گزینوں کے لیے موثر تحفظ تک رسائی کو یقینی بنائے، ترجیحی بنیادوں پر معلومات کی منظم فراہمی کا نظام تشکیل دے اور خصوصی ضروریات کے حامل افراد کی شناخت کے لیے کام کرے۔







