مقدونیہ: تارکین وطن کے خلاف آنسو گیس کا استعمال

،تصویر کا ذریعہAP
یونان نے اپنی سرحد پر مقدونیہ کی پولیس کی جانب سے پناہ گزینوں کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے استعمال کو انتہائی قابل افسوس عمل قرار دیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق آنسو گیس کا استعمال آئیڈومنی نامی گزرگاہ پر کیا گیا جہاں قریب ہی یونانی سرحد کی جانب تقریباً 11،000 پناہ گزینوں کا کیمپ ہے۔
امدادی ادارے میدساں ساں فرنتیئر (ایم ایس ایف) کے مطابق انھوں نے اس واقعے میں زخمی ہونے والے 300 افراد کو طبی امداد فراہم کی ہے۔
یونان کی حکومت کے ترجمان جیورج کریٹسس نے مقدونیہ کی اس کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے کہا: ’ایک مجبور آبادی پر بلاامتیام کیمیکل، ربڑ کی گولیوں اور سٹن گرینیڈ کا استعمال بہت ہی خطرناک اور قابل افسوس عمل ہے۔‘
ایم ایس ایف نے کہا تھا کہ مقدونیہ کی سکیورٹی فورسز نے پناہ گزینوں پر اس وقت آنسو گیس، ربڑ کی گولیاں اور سٹن گرینیڈ فائر کیے جب وہ سرحد پار کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

،تصویر کا ذریعہAP
ایم ایس ایف کے ترجمان جوناس ہیگنسین نے بی بی سی کو بتایا کہ ’تقریباً دو سو لوگوں کو آنسو گيس کی وجہ سے سانس لینے میں مشکلات کا سامنا تھا، انھیں طبّی مدد پہنچائي گئی۔ ان میں سے بشیتر مرد تھے لیکن متاثرین میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں جن میں سے بعض تو پانچ برس سے بھی کم عمر کے ہیں۔‘
انھوں نے مزید بتایا کہ 30 سے زیادہ لوگوں کو ربڑ کی گولیوں کے زخم آئے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ بہت سے لوگوں کو اس واقعے سے شدید صدمہ پہنچا جن کا علاج کیا جا رہا ہے، جبکہ سات افراد کو سنگين چوٹیں آئی ہیں، اور وہ اس وقت ہسپتال میں ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اتوار کے روز یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب بعض پناہ گزینوں نے مقدونیہ کی سکیورٹی فورسز سے سرحد کو کھولنے کی درخواست کی اور کہا کہ انھیں ادھر سے گزرنے دیا جائے۔
لیکن جب انھیں اجازت نہیں ملی تو بہت سے لوگوں نے رکاوٹیں توڑ کر سرحد پار کرنے کی کوشش کی جس کے بعد سرحدی پولیس نے یہ سخت کارروائی کی۔







