’45 پاکستانیوں سمیت پناہ گزینوں کی ترکی واپسی‘

رواں سال مارچ میں معاہدہ طے پانے کے بعد سے تقریباً 400 افراد روزانہ یونان کے جزیروں پر پہنچ رہے ہیں
،تصویر کا کیپشنرواں سال مارچ میں معاہدہ طے پانے کے بعد سے تقریباً 400 افراد روزانہ یونان کے جزیروں پر پہنچ رہے ہیں

پناہ گزینوں سے متعلق یورپی یونین اور ترکی کے درمیان ہونے والے معاہدے کے تحت پناہ گزینوں کا دوسرا گروہ یونان سے ترکی روانہ ہو گیا ہے۔ واپس آنے والے پناہ گزینوں میں 45 افراد پاکستانی ہیں۔

یونان کے جزیرے لیسبویس سے ایک کشتی پناہ گزینوں کو لے کر ترکی روانہ ہوئی ہے۔ روانگی سے قبل تارکینِ وطن نے احتجاج بھی کیا اور واپسی کے خوف سے تین افراد نے سمندر میں چھلانگ لگا دی۔

یونان کے حکام کا کہنا ہے کہ واپس بھجوائے گئے تارکینِ وطن نے پناہ کی درخواستیں نہیں دی تھیں۔

گذشتہ پیر کو تقریباً جن 200 سو پناہ گزینوں کو یونان سے ترکی واپس بھیجا گیا تھا اس میں سے بیشتر کا تعلق پاکستان سے تھا۔

دوسری جانب پاکستان کی حکومت کا کہنا ہے کہ یورپ سے واپس بھیجے جانے والے تارکینِ وطن اپنی پاکستانی شناخت ثابت نہیں کر سکیں ہیں۔

ترکی اور یورپی یونین میں جو معاہدہ طے پایا تھا اس کے مطابق 20 مارچ کے بعد غیر قانونی طور پر یونان پہنچنے والے کسی بھی ایسے شخص کو جس نے پناہ حاصل کرنے کے لیے درخواست نہ دی ہو یا پھر اس کی درخواست مسترد کر دی گئی ہو، ترکی واپس بھیج دیا جائے گا۔

گذشتہ پیر کو تقریبا جن 200 سو پناہ گزینوں کو یونان سے ترکی واپس بھیجا گیا تھا اس میں سے بیشتر کا تعلق پاکستان سے تھا
،تصویر کا کیپشنگذشتہ پیر کو تقریبا جن 200 سو پناہ گزینوں کو یونان سے ترکی واپس بھیجا گیا تھا اس میں سے بیشتر کا تعلق پاکستان سے تھا

معاہدے کے تحت ایک شامی باشندے کو جسے یونان سے ترکی واپس بھیجا جائےگا اس کے بدلے میں یورپی یونین اس شامی پناہ گزین کو قبول کرے گی جس نے قانونی طور پر اس کی درخواست دی ہوگی۔

جمعہ کے روز جن افراد کو یونان سے ترکی واپس بھیجا جا رہا ہے ان میں سے جو غیر شامی لوگ ہیں انھیں ملک بدرکرنے والے مرکز بھیجا جائے گا جبکہ شامی باشندوں کو پناہ گزینوں کے کیمپ لے جا یا جائے گا جہاں سے انھیں براہ راست یورپی یونین میں بسانے کا انتظام کیا جائے گا۔

اس دوران ترکی کے صدر طیب اردوغان نے کہا ہے کہ ان کا ملک اس معاہدے پر عمل اسی صورت میں کرے گا جب یورپی یونین بھی اپنے وعدوں پر عمل کرے گا۔

ان کا کہنا تھا ’اس کی بعض مخصوص شرطیں ہیں۔ اگر یورپی یونین اس کے لیے ضروری اقدامات نہیں کرتی تو پھر ترکی بھی معاہدے کو نافذ نہیں کرے گا۔‘

لیکن جرمن چانسلر اینگلا میرکل، جن کے ملک نے سب سے زیادہ لوگوں کو پناہ دی ہے، اس واپسی کے عمل سے کافی خوش لگ رہی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP

مشرقی فرانس میں اپنے ہم منصب فرانسوا اولاند کے ساتھ ایک مشترکہ کانفرنس کے دوران میرکل نے کہا ’میں آج بہت خوش ہوں۔ حالانکہ یہ بھی درست ہے کہ ہمیں جو کام کرنا ہے ہم نے ابھی اسے مکمل نہیں کیا ہے۔‘

رواں سال مارچ میں معاہدہ طے پانے کے بعد سے تقریباً 400 افراد روزانہ یونان کے جزیروں پر پہنچ رہے ہیں۔

شمالی یورپ کے ممالک کی جانب سے اپنی سرحدیں بند کرنے کے بعد ہزاروں افراد یونان میں پھنس گئے ہیں جبکہ خیمہ بستیوں میں سہولیات کے فقدان کے باعث جھڑپوں کے واقعات بھی پیش آئے ہیں۔

گذشتہ سال سے اب تک بذریعہ کشتی دس لاکھ پناہ گزین ترکی سے یورپ میں داخل ہوئے ہیں۔