کم عمری میں برطانیہ آنے والوں افغان پناہ گزینوں کی واپسی
برطانیہ میں ایک عدالتی فیصلے کی روشنی میں ملک میں غیر قانونی طور پر موجود سینکڑوں افغان پناہ گزینوں کو ملک بدر کیا جا رہا ہے۔
وکلا نے بی بی سی ایشن نیٹ ورک کو بتایا ہے کہ ملک بدر ہونے والے افغان پناہ گزین ان دنوں پناہ کے لیے نئی درخواستیں جمع کروا رہے ہیں۔ نئی درخواستوں میں انھوں نے یہ موقف اپنایا ہے کہ افغانستان میں سکیورٹی کی صورتحال بہت خراب ہے اور اس لیے انھیں واپس نہ بھیجا جائے۔
برطانیہ میں چند ہفتے قبل ججوں نے پناہ گزینوں کو واپس بھیجنے پر پابندی یہ کہتے ہوئے ختم کر دی تھی کہ پناہ گزینوں کو اُن کے ملک میں واپس بھیجنا محفوظ ہے۔
بہت سے افغان پناہ گزین اپنے بچپن میں برطانیہ آئے تھے جو زیادہ تر غیر قانونی طور پر کام کرتے ہیں اور اب اس عدالتی فیصلے کے بعد وہ روپوش ہو گئے ہیں۔
عصمت بھی ایسے ہی ایک افغان پناہ گزین ہیں۔ جو پولیس کا سائرن سن کر ہی پریشان ہو جاتے ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’جب وہ پولیس کی گاڑی کی سائرن سنتے ہیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ مجھے حراست میں لینے آئے ہیں اور گرفتار کر کے واپس گھر بھیج دیں گے۔‘
عصمت گذشتہ تین برسوں سے چھپ رہے ہیں۔ جب وہ افغانستان سے برطانیہ آئے تھے تو اُن کی عمر 14 سال تھی اب وہ 20 سال کے ہیں۔ انھیں 18 سال کی عمر تک برطانیہ میں رہنے کی اجازت دی گئی تھی۔
افغانستان میں امن و امان کی صورتحال خراب ہے اور گذشتہ سال افغان پناہ گزینوں کو اُن کے ملک بھجوانے پر پابندی تھی۔ بعض افغان پناہ گزینوں نے اپنی واپسی کے فیصلے کو عدالت میں چیلنج کیا تھا کہ انھیں واپس بھجوانا بہت خطرناک ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لیکن عدالت نے اُن کے خلاف فیصلہ دیتے ہوئے واپسی پر عائد پابندی اُٹھا لی ہے۔
افغان پناہ گزینوں کے ایک وکیل توفیق حسین کا کہنا ہے کہ عدالت نے افغانستان میں سکیورٹی کی صورتحال کی بنیاد پر اپنا فیصلہ سنایا ہے۔
سنہ 2007 کے بعد سے اب تک دو ہزار سے زیادہ نابالغ افغان پناہ گزینوں کو واپس بھجوایا گیا ہے۔
برطانیہ کے محکمۂ داخلہ کا کہنا ہے کہ ’پناہ گزینوں کے بارے میں انھیں اپنی پالیسی پر فخر ہے۔ انھوں نے کہا بعض افراد ایسے ہوتے ہیں جنھیں حقیقت میں ’تحفظ کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہم انھیں ریفوجی کا درجہ دیتے ہیں۔‘







