پوپ 12 تارکین وطن کو اپنے ساتھ ویٹیکن لےگئے

،تصویر کا ذریعہReuters
کیتھولک عیسائیوں کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس یونانی جزیرے لیسبوس کا دورہ کرنے کے بعد 12 شامی تارکین وطن کو بھی اپنے ساتھ ویٹیکن لے گئے ہیں۔
بارہ افراد پر مشتمل ان تین خاندانوں میں چھ بچے بھی شامل ہیں اور یہ تمام شامی تارکین وطن مسلمان ہیں جو کہ شام میں بمباری کے نتیجے میں اپنے گھروں کی تباہی کے بعد یہاں آئے تھے۔
روم پہنچنے پر ان شامی تارکین وطن کا والہانہ استقبال کیا گیا ہے۔
یونانی جزیرے لیسبوس سے واپسی پر پوپ فرانسس نے تارکین وطن کے ہجوم سے کہا کہ وہ امید کا دامن نہ چھوڑیں۔انھوں نے پوری دنیا سے مخاطب ہو کر کہا کہ وہ ان تمام تارکین وطن کے لیے رحم کا جدبہ دکھائیں۔
انھوں نے کہا کہ ان کے اس دورے کا مقصد ’انسانی بحران کی قبر‘ کو واضح کر کے دکھانا تھا۔
ویٹیکن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پوپ فرانسس پناہ گزینوں کے ’خیر مقدم کے جذبے کا اظہار‘ کرنا چاہتے ہیں۔
پوپ فرانسس نے یونانی جزیرے پر قائم تارکین وطن کے اس مرکز کا دورہ کیا جہاں 3000 کے قریب افراد پناہ حاصل کرنے یا ترکی واپس بھیجے جانے کا انتظار کر رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
اطلاعات کے مطابق ان تین خاندانوں کا انتخاب انتہائی پریشان حال تارکین وطن میں سے قرعہ کے ذریعے کیا گیا ہے اور ابتدائی طور پر ان کی دیکھ بھال سینٹ ایگیدیو برادری کرے گی جو کہ امدادی کاموں کے لیے جانی جاتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خیال رہے کہ لیسبوس تارکین وطن کی جانب سے یورپ میں داخلے کا اہم راستہ رہا ہے اور گذشتہ سال یورپ داخل ہونے والے دس لاکھ سے زائد افراد اسی راستے سے آئے تھے۔
گذشتہ ماہ تارکین وطن کے حوالے سے یورپی یونین اور ترکی کے درمیان معاہدے کے بعد ہزاروں کی تعداد میں افراد یہاں پھنس گئے ہیں۔
ویٹیکن کا کہنا ہے کہ ان کا یہ دورہ انسانی ہمدردی اور مذہبی نوعیت کا ہے اور اس کو ملک بدری پر تنقید کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے۔
پوپ کی آمد سے قبل موریا کیمپ میں ایک شامی شخص نے خودکشی کی کوشش کی جب اس کو بتایا گیا کہ اسے ترکی واپس بھیجا جاسکتا ہے۔
اس کے بعد تارکین وطن نے احتجاج کیا اور یورپ میں قیام اور بہتر سلوک کا مطالبہ کیا۔
ویٹیکن کی جانب سے اس مختصر دورے کا مقصد مشکل حالات میں توجہ مبذول کروانا ہے۔







