شمالی کوریا کا میزائل تجربہ ’ناکام رہا‘

،تصویر کا ذریعہAP
امریکی اور جنوبی کوریا کے حکام کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا نے جمعے کی صبح اپنے مشرقی ساحل پر ایک میزائل کا تجربہ کیا ہے لیکن بظاہر ایسا لگتا ہے کہ اس کا یہ تجربہ ناکام ہوگیا ہے۔
میزائل کا یہ تجربہ شمالی کوریا کے بانی رہنما کم ال سنگ کی یوم پیدائش پر کیا گيا جو موجودہ رہنما کم جانگ ان کے دادا تھے۔
جنوبی کوریا کے حکام کا کہنا ہے کہ انھیں ابھی یہ نہیں معلوم کہ جس میزائل کا تجربہ کیا گيا وہ کس نوعیت کا تھا یا کتنی دور تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔
امریکہ کا کہنا ہے کہ اس نے بھی اس میزائل تجربے کی معلومات تو حاصل کر لیں ہیں لیکن کونسا میزائل استعمال کیا گیا اس کی تفصیلات کا پتہ نہیں چل سکا۔
امریکی وزارت خارجہ کے ایک بیان میں کہا گیا ہے ’ہم شمالی کوریا سے ایک بار پھر کہتے ہیں کہ وہ ایسے کام یا بیانات سے باز رہے جس سے خطّے میں مزید تناؤ پیدا ہو اور اسے بین الاقوامی وعدوں اور ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے جامع اقدامات کرنے چاہیں۔‘
شمالی کوریا نے گذشتہ جنوری میں جوہری تجربہ کیا تھا جس کے بعد امریکہ اور عالمی برادری نے اس پر سخت پابندیاں عائد کر دی تھیں۔ شمالی کوریا کے ان کارروائیوں کی بین الاقوامی سطح پر سخت تنقید ہوتی رہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
گذشتہ چند مہینوں میں شمالی کوریا نے امریکہ اور جنوبی کوریا کو دھمکی آمیز انداز میں میزائل، راکٹ اور دیگر ہتھیاروں کے تجربے کرتا رہا ہے۔
یاد رہے کہ چند روز قبل بھی امریکہ نے شمالی کوریا پر مزید نئی پابندیاں عائد کی تھیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یکم اپریل کو امریکی صدر باراک اوباما نے اعلان کیا تھا کہ امریکہ اور چین نے فیصلہ کیا ہے کہ شمالی کوریا کو مستقبل میں میزائل ٹیسٹ کرنے سے روکیں گے۔
پچھلے چند ہفتوں میں شمالی کوریا نے مغربی ممالک کو دھمکیاں دیتے ہوئے ہائیڈروجن بم اور پھر طویل فاصلے تک جانے والے میزائل کے تجربات کیے ہیں۔
ماضی میں شمالی کوریا پر سنہ 2006، سنہ 2009 اور پھر سنہ 2013 میں جوہری تجربات کی وجہ سے اقوام متحدہ کی جانب سے عائد کی گئی پابندیوں سے شمالی کوریا کے ایٹمی ارادوں پر کوئی اثر نہیں پڑا ۔
پابندیوں پر عمل درآمد کی زیادہ تر ذمہ داری اب چین پر پڑ رہی ہے۔







