شمالی کوریا کو میزائل ٹیسٹ سے روکنے کے لیے امریکہ و چین متحد

،تصویر کا ذریعہAP
امریکی صدر باراک اوباما کا کہنا ہے کہ امریکہ اور چین نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ شمالی کوریا کو مستقبل میں میزائل ٹیسٹ کرنے سے روکیں گے۔ تاہم اطلاعات ہیں کہ صدر اوباما کے بیان کے بعد شمالی کوریا نے ایک اور میزائل تجربہ کیا ہے۔
پچھلے چند ہفتوں میں شمالی کوریا نے مغربی ممالک کو دھمکیاں دیتے ہوئے ہائیڈروجن بم اور پھر طویل فاصلے تک جانے والے میزائل کے تجربات کیے۔
اوباما اور چینی صدر شی جن پنگ واشنگٹن میں ایک نیوکلئیر سمٹ میں ملے۔
اوباما کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کو کوریا کے خطے کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک دیکھنا چاہتےہیں۔
دوسری جانب شمالی کوریا نےجمعے کوپیاناگیانگ میں بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا۔
چین کے وزیر خارجہ جینگ زیگوانگ نے کہا کہ دونوں صدر نے مختلف موضوعات پر کھل کر اور گہرے طریقے سے تبادلہ خیالات کیا اور ان کی یہ میٹنگ بہت مثبت اور سود مند رہی۔
امریکہ کی جانب سے ان نئی پابندیوں کا اطلاق شمالی کوریا کی جانب سے چھ جنوری کو ہائیڈروجن بم اور پھر سات فروری کو طویل فاصلے تک جانے والے میزائل کے تجربات کے بعد کیا گیا ہے۔
اس کے بعد یو این اور واشنگٹن نے شمالی کوریا پر مزید پابندیاں عائد کر دی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کہا جا رہا ہے کہ بیجنگ اور واشنگٹن کے درمیان بات چیت کے دو ماہ بعد اقوامِ متحدہ نے چین کی مدد سے یے اقدامات اٹھائے ۔
ماضی میں شمالی کوریا پر 2006، 2009 اور پھر 2013 میں نیوکلئیر تجربات کی وجہ سے یو این کی جانب سے عائد کی گئی پابندیوں سے شمالی کوریا کے ایٹمی ارادوں پر کوئی اثر نہیں پڑا ۔
پابندیوں پر عمل درآمد کی زیادہ تر ذمہ داری اب چین پر پڑ رہی ہے۔
نئے اقدامات میں یہ بھی شامل ہے کہ چین تک شمالی کوریا سے آنے والے ہر بحری جہاز کو چیک کیا جائےگا اور وہ ہر چیز جسے شمالی کوریا کے ایٹمی پروگرام میں استعمال کیا جا سکے اسے ضبط کر لیا جائے گا۔
واشنگٹن کی جانب سے بیجنگ سے شمالی کوریا پر زور ڈالنے کے حوالے سے کئی بار بات چیت ہوئی۔
پچھلے ہفتے صدر اوباما کے ساتھ ایک ملاقات کے دوران چین کے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ شمالی کوریا سے وسیع موضوعات پر بات چیت کی امید ہے جس میں علاقے کی اور طاقتوں کو بھی شامل ہونا چاہیے۔
اوباما نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اس مسئلہ پر نظر رکھیں گے اور جنوبی کوریا اور جاپان کے ساتھ مل کر اس پر کام کریں گے۔
اوباما نے کہا ’ہم شمالی کوریا کے جارحانہ رویہ کے خلاف متحد ہیں۔‘







