’شدت پسند نیٹ ورک پورے یورپ میں موجود ہے‘

 فوٹیج میں ان کو پولیس کی گاڑی میں لے جاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے

،تصویر کا ذریعہVTM via AP

،تصویر کا کیپشن فوٹیج میں ان کو پولیس کی گاڑی میں لے جاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے

فرانسیسی صدر فرانسوا اولاند نے متنبہ کیا ہے کہ اگر چہ نومبر کے پیرس حملوں کے ایک اہم مشتبہ شخص کو پکڑ لیا گيا ہے تاہم دہشت گردی کا نیٹ ورک پورے یورپ میں اب بھی پھیلا ہوا ہے۔

انھوں نے یہ بات گذشتہ نومبر میں پیرس میں ہونے والے حملوں میں ملوث مشتبہ حملہ آور صالح عبدالسلام کو برسلز میں ایک چھاپہ مار کارروائی کے دوران زخمی حالت میں گرفتار کیے جانے کے بعد کہی ہے۔

صالح عبدالسلام گذشتہ سال پیرس میں حملوں کے بعد مفرور تھے اور ان کے خلاف فرانس نے گرفتاری وارنٹ جاری کر رکھا تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ برسلز میں مولن بیک کے علاقے میں ایک گھر میں چھاپے کے دوران گرفتار کیا اور ان کے ایک ٹانگ پر زخم تھا۔

بیلجیئم کے وزیراعظم چارلس مچل نے کہا کہ دو دیگر افراد کو بھی گرفتار کیا گیا ہے جبکہ پراسیکیوٹرز کا کہنا ہے کہ گرفتار کیے جانے والے افراد میں مطلوب شخص منیر احمد الحاج بھی شامل ہیں۔

فرانسیسی صدر اولاند نے کہا ہے کہ انھیں امید ہے صالح عبدالسلام کو جلد از جلد فرانس کے حوالے کر دیا جائے گا۔

انھوں نے عبدالسلام کی گرفتاری کے حوالے سے کہا: ’دہشت گردی کے خلاف جنگ آج رات ہی ختم نہیں ہو رہی ہے حالانکہ یہ ایک بڑی کامیابی ہے۔‘

اولاند سنیچر کو اعلی حکام کے ساتھ ملاقات کریں گے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشناولاند سنیچر کو اعلی حکام کے ساتھ ملاقات کریں گے

انھوں نے مزید کہا: ’ہماری جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔۔۔ اور جنگ اسی وقت ختم ہوسکتی ہے جب تک کہ نومبر کے حملوں میں ملوث تمام افراد پکڑے نہیں جاتے۔‘

صدر اولاند نے کہا ’کل تک مجھے جو معلومات فراہم کی جائیں گی ان کی بنیاد پر میں ڈیفنس کونسل سے ایک میٹنگ کروں گا۔‘ اس میٹنگ میں سکیورٹی کے اعلی اہلکار بھی شامل ہوں گے۔

برسلز میں پولیس کی جانب سے یہ چھاپہ مار کارروائی منگل کو ایک گھر پر چھاپے کو دوران حاصل کیے انگلیوں کے نشانات ملنے کے بعد کی گئی ہے۔

ڈرامائی فوٹیج میں ان کو پولیس کی گاڑی میں لے جاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

بیلجیئم کے سیکریٹری سٹیٹ برائے پناہ اور مائیگریشن فرینکن کا کہنا تھا کہ ’ہم نے انھیں پکڑ لیا ہے۔‘

خیال رہے کہ صالح عبدالسلام کا شمار یورپ کے مطلوب ترین افراد میں ہوتا ہے اور وہ پیرس حملوں سے منسلک اہم ترین مشتبہ شخص تھے، جس میں 130 افراد کی ہلاکت ہوئی تھی۔

یہ چھاپہ مار کارروائی بظاہر کئی گھنٹوں تک جاری رہی اور جائے وقوعہ پر دو دھماکوں کی آواز بھی سنی گئی ہے۔

اس سے قبل منگل کو برسلز کے ایک فلیٹ پر چھاپے کے دوران صالح عبدالسلام کی انگلیوں کے نشانات ملے تھے۔

 برسلز میں مولن بیک کے علاقے میں ایک گھر میں چھاپے کے دوران گرفتار کیا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن برسلز میں مولن بیک کے علاقے میں ایک گھر میں چھاپے کے دوران گرفتار کیا

تاہم پراسیکیوٹرز نے جمعے کو بی بی سی کو بتایا تھا کہ یہ واضح نہیں ہے کہ صالح عبدالسلام اس جگہ پر کس وقت موجود تھے کیونکہ ان نشانات سے یہ معلوم نہیں کیا جاسکتا۔

پیرس حملوں سے منسلک ایک اور الجزائری شہری محمد بیلکائد منگل کو فورسٹ کے نواحی علاقے میں ایک کارروائی کے دوران ہلاک ہوگئے تھے۔

حکام کا اس وقت کہنا تھا کہ ان کے خیال میں دو دیگر مشتبہ افراد فرار ہوگئے تھے۔

26 سالہ فرانسیسی شہری صالح عبدالسلام برسلز میں پیدا ہوئے تھے اور 13 نومبر کو ہونے والے حملوں سے قبل مولن بیک کے علاقے میں قیام پذیر رہے تھے۔

ان کے بارے میں کہا جا رہا تھا کہ وہ پیرس میں حملوں کے فوراً بعد بیلجیئم واپس آگئے تھے۔