پیرس حملے: مبینہ حملہ آور کی سی سی ٹی وی فوٹیج

پیرس حملوں کے ایک روز بعد صالح عبدالاسلام سی سی ٹی وی کیمرے میں نظر آئے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنپیرس حملوں کے ایک روز بعد صالح عبدالاسلام سی سی ٹی وی کیمرے میں نظر آئے

فرانسیسی ٹی وی چینل بی ایف ایم کے مطابق پریس حملوں کے مبینہ حملہ آور صالح عبدالاسلام کی سی سی ٹی وی کیمروں سے حاصل کی گئی فلم مل گئی ہے۔

پیرس حملوں کے ایک روز بعد صالح عبدالاسلام سی سی ٹی وی کیمرے میں نظر آئے۔

ان تصاویر میں مبینہ حملہ آور پرسکون ہیں اورپینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈال کر چل رہے ہیں۔

صالح عبدالاسلام کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ حملہ آوروں تک سازوسامان پہنچانے کے ذمہ دار تھے۔

بتایا جاتا ہے کہ صالح کو بیلجیئم تک پہنچانے کے لیے ان کے دو دوست محمد عامری اور صالح حمزہ پیرس حملوں کے ایک دن بعد پیٹرول پمپ پر آئے۔

 تینوں افراد 14 نومبر کو جب اس پیٹرول پمپ پر پہنچنے تو وہ تین پولیس چیک پوسٹس سے گذر کر جا چکے تھے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشن تینوں افراد 14 نومبر کو جب اس پیٹرول پمپ پر پہنچنے تو وہ تین پولیس چیک پوسٹس سے گذر کر جا چکے تھے

پیرس سے برسلز جاتے ہوئے یہ تین افراد بیلجیئم کے قریب سرحدی علاقے میں پیٹرول پمپ پر 15 منٹ تک کے لیے رکے، جہاں سی سی ٹی وی کیمرے میں ان کی ریکارڈنگ ہوئی۔

خیال رہے کہ یہ تینوں افراد 14 نومبر کو جب اس پیٹرول پمپ پر پہنچنے تو وہ تین پولیس چیک پوسٹوں سے گذر کر جا چکے تھے تاہم انھیں کسی نے نہیں روکا تھا کیونکہ اس وقت تک صالح عبدالاسلام پر پیرس حملوں میں ملوث ہونے کا شبہ ظاہر نہیں کیا گیا تھا۔

محمد عامری اور صالح حمزہ بعد میں برسلز کے ضلع لائکن میں صالح کو چھوڑ کر چلے گئے۔

ان تینوں میں سے دو تو گرفتار ہوگئے تاہم اب تک صالح عبدالاسلام کا پتہ نہیں لگایا جا سکا۔

یہ خیال کیا جاتا ہے کہ پیرس حملوں کی منصوبہ بندی کچھ حد تک برسلز میں بھی ہوئی۔ بیلجییم پولیس نے 10 مشتبہ افراد کو حراست میں لیا ہے۔

خیال رہے کہ پیرس حملوں میں 130 افرد ہلاک ہوئے تھے۔