پیرس حملوں کی تحقیقات میں مشتبہ شخص گرفتار

،تصویر کا ذریعہ
اطلاعات کے مطابق فرانس کے دارلحکومت پیرس میں پولیس نے 13 نومبر کو ہونے والے دہشت گرد حملوں کی تحقیقات کے سلسلے میں ایک شخص کو گرفتار کر لیا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پیرس حملوں کے بعد پولیس کی جانب سے ملک بھر میں تقریباً 2700 چھاپے مارے ہیں جن کے بعد تین سو 60 لوگوں کو ان کے گھروں میں نظر بند کیا گیا ہے۔
ذرائع ابلاغ کے مطابق پولیس نے شمالی فرانس میں بھی دو افراد کو گرفتار کیا ہے جن پر شبہ ہے کہ انھوں نے جنوری میں حملہ آوروں کو اسلحہ فراہم کیا تھا۔
پولیس دونوں مشتبہ افراد کو حراست میں لینے کے بعد ان سے پوچھ گچھ کر رہی ہے۔
فراسیسی ذرائع ابلاغ کی ایک رپورٹ کے مطابق منگل کو ایک 29 سالہ شخص کو گرفتار کیا گیا تھا جو شام کا سفر کرنے کی تیاری کر رہا تھا۔

،تصویر کا ذریعہReuters
پیرس کے استغاثہ کے دفتر کا کہنا ہے کہ شمالی فرانس میں گرفتار ہونے والے دو مشتبہ افراد کو ’امیدی کولیبالی‘ نامی ایک حملہ آور کو اسلحہ فراہم کرنے کے شبہ میں گرفتار کیا گیا ہے جس نے رواں سال جنوری میں ایک کوشر سپر مارکیٹ پر حملہ کیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سرکاری وکیل نے تصدیق کی کہ گرفتار ہونے والے شخص کی شناخت ’کلاڈ ہرمنٹ‘ کے نام سے کی گئی ہے جو قدامت پسند گروہوں کے ساتھ تعلقات رکھنے پر جانے جاتے ہیں۔ ان کے ساتھ گرفتار ہونے والا فرد ان کا ساتھی بتایا جا رہا ہے۔
خیال رہے کہ امیدی کولیبالی نے پیرس میں قائم ایک سپر مارکیٹ میں چار لوگوں کو قتل کرنے کے بعد ایک خاتون پولیس افسر کو ہلاک کیا تھا جس کے بعد انھیں پولیس نے ہلاک کر دیا تھا۔
دریں اثنا دو مختلف عینی شاہدین نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ انھوں نے نومبر میں پیرس حملوں کے منصوبہ ساز مراکشی نژاد بیلجیئن شدت پسند عبدالحمید اباعود کو اکتوبر میں یونانی جزیرے ’لیروس‘ پر دیکھا تھا۔
انھوں نے کہا کہ عبدالحمید اباعود کے علاوہ ان کے ساتھی اور ’سٹاد دا فرانس‘ سٹیڈیم پر حملہ کرنے والے دو خود کش حملہ آور بھی یورپ میں پہنچے تھے۔
کہا جا رہا ہے کہ پیرس سٹیڈیم کے خودکش حملہ آور تین اکتوبر کو لیروز پر سمگلروں کی کشتیوں کے ذریعے پہنچے تھے جس کے بعد وہ چار دیگر افراد کے ساتھ ایتھنز کی جانب گئے تھے۔ان چاروں افراد کے بارے میں اب تک کوئی معلومات سامنے نہیں آئی ہیں۔







