فرانس کے علاقائی انتخابات، دائیں بازو کے جیتنے کا امکان زیادہ

گذشتہ ماہ میں ہونے والے پیرس حملوں کے بعد ملک کے پہلے علاقائی انتخابات منعقد کیے جا رہے ہیں۔
عوامی جائزوں کے مطابق ان انتخابات میں انتہائی دائیں بازو کی جماعت ’نیشنل فرنٹ‘ کے جیتنے کے امکانات بہت زیادہ ہیں۔
اس کے علاوہ توقع ہے کہ سابق صدر نکولس سرکوزی کی قیادت میں دائیں بازو کی پارٹی زیادہ تر علاقوں میں ووٹ حاصل کر کے حکمران جماعت سوشلسٹ پارٹی کو شکست دے گی۔
اتوار کو علاقائی انتخابات کے منعقد کیے جانے والے پہلے مرحلے کے بعد حتمی مرحلہ 13 دسمبر کو ہو گا۔
فرانس میں مقامی ٹرانسپورٹ، تعلیم اور اقتصادی ترقی کے معالات میں زیادہ اختیارات علاقائی حکومتوں کو دیے جاتے ہیں۔
13 نومبر کو ہونے والے پیرس حملوں کے بعد ان انتخابات کی اہپمیت میں اضافہ ہو گیا ہے کیونکہ عوامی رائے کے مطابق ملک میں تارکین وطن کی آمد اور یورپی یونین کی مخالف پارٹی ’نیشنل فرنٹ‘ کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ملک کے شمالی خطے ’نور پا ڈا کیلے پیکارڈی‘ میں نیشنل فرنٹ کی رہنما مارین لپین کے سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے کے امکانات ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAP
دوسری جانب ملک کے جنوبی علاقے ’پرووانس آلپس کوٹے ڈازیور‘ میں ان کی بھانجی میریئن ماریشل لپین ایک بڑی مدمقابل سمجھی جا رہی ہیں۔
اگر نیشنل فرنٹ ان علاقوں میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرتی ہے تو یہ ملک کی تاریخ میں پارٹی کی جانب سے حکمرانی کا پہلا سلسلہ ہوگا۔
نیشنل فرنٹ امید کر رہی ہے کہ اس کی مضبوط کارکردگی سے ملک میں سنہ 2017 کے صدارتی انتخابات میں مارین لین کے جیتنے کے امکانات بڑھ جائیں گِے۔
رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق ان انتخابات میں سابق صدر نکولس سرکوزی کی پارٹی ’لے ریپبلیکینس‘ اور نیشنل فرنٹ مجموعی طور پر تقریباً 30 فیصد ووٹ حاصل کریں گی۔
پیرس حملوں کے بعد حکومت کے رد عمل پر صدر فرانسواز اولاند کی مقبولیت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ جائزوں کے مطابق ان کی مقبولیت میں 30 فیصد سے لے کر 50 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔
لیکن جہاں صدر اولاند کی ذاتی شخصیت کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے وہاں ان کی ’سوشلسٹ پارٹی‘ میں یہ مقبولیت دکھائی نہیں دے رہی ہے۔
اس وقت ان کی پارٹی کو 22 فیصد مقبولیت حاصل ہے۔
جمعرات کو فرانسیسی وزیر اعظم مینویل والز نے سوشلسٹ ووٹ حاصل کرنے کی کوشش میں ’حب الوطنی کی اپیل‘ کی تھی۔
یہ علاقائی انتخابات پیرس حملوں کے بعد ملک میں اعلان کی گئی ہنگامی حالت کے دوران منعقد کیے جا رہے ہیں۔
ان حملوں میں 130 لوگ ہلاک ہوئے تھے اور ان کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ نے قبول کی تھی۔
جمعے کو بیلجیئم کے سرکاری وکیل کے دفتر نے کہا تھا کہ پولیس پیرس حملوں کے مرکزی ملزم 26 سالہ فرانسیسی شہری صالح عبدالسلام کو مبینہ طور پر مدد کرنے والے دو نئے مشتبہ افراد کو ابھی تک تلاش کر رہی ہے۔







