دولتِ اسلامیہ کی فائلز میں پیرس کے حملہ آوروں کے نام

سامنے آنے والی فائلز کے حوالے سے لگائے جانے والے ایک اندازے کے مطابق اس تنظیم میں بھرتی ہونے والوں کی تعداد 22 ہزار ہے
،تصویر کا کیپشنسامنے آنے والی فائلز کے حوالے سے لگائے جانے والے ایک اندازے کے مطابق اس تنظیم میں بھرتی ہونے والوں کی تعداد 22 ہزار ہے

جرمن میڈیا کے مطابق دولتِ اسلامیہ کی چوری شدہ فائلز میں پیرس میں حملہ کرنے والے تین افراد کے نام بھی شامل ہیں۔

یہ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ان تینوں نے پیرس میں گذشتہ برس ہونے والے حملوں میں سب سے بدترین حملے میں کیے جن میں 90 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

ان چوری شدہ فائلزکو جرمنی، برطانیہ اور شام کے میڈیا نے حاصل کیا ہے جن کے مطابق دولتِ اسلامیہ میں 40 ممالک کے لوگ بھرتی ہوئے ہیں۔

خیال رہے کہ اس سے قبل جرمنی کے وزیرِ داخلہ ٹوماس ڈی میزیئر نے اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ دولتِ اسلامیہ میں بھرتی ہونے والے سینکڑوں افراد کے کوائف چوری شدہ فائلوں موجود ہیں۔

فواد محمد

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنفواد محمد

اس تنظیم کے سرکاری فارم میں تنظیم میں بھرتی ہونے والوں کے نام، پتے، فون نمبر اور ان کے فن اور صلاحیت کے بارے میں لکھا گیا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق اس تنظیم میں بھرتی ہونے والوں کی تعداد 22 ہزار ہے۔

ان بھرتی ہونے والوں میں سیمی ایمور، فواد محمد، عمر اسماعیل مصطفی کا نام بھی شامل ہے۔

جرمنی کے پبلک براڈکاسٹرز ڈبلیو ڈی آر اور این ڈی آر سمیت ایک ڈیلی روزنامے نے ان دستاویزات کو حاصل کیا ہے۔

ڈبلیو ڈی آر نے کہا ہے کہ یہ تینوں حملہ آور دولتِ اسلامیہ میں سنہ 2013 اور 2014 میں شامل ہوئے تھے۔

سامنے آنے والی فہرست میں شامل دو افراد کیرم مارک بی اور عبدالکریم اس وقت جرمنی میں مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔

عمر اسماعیل مصطفی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنعمر اسماعیل مصطفی

ولندیزی میڈیا نے ابو جہاد الہولاندی کی شناخت ایمسٹرڈیم کے اکراف بوامران کے طور پر کی تھی جو امریکی ڈرون حملے میں جنوری 2015 میں رقہ میں ہلاک ہو گئے تھے۔ بتایا گیا ہے کہ ہولاندی جنگجو بننا چاہتے تھے۔

بتایا گیا ہے کہ شام میں ہونے والے حملوں میں 16 برطانوی شہری ہلاک ہوئے۔

فضائی حملوں میں ہلاک ہونے والے جنید حسین اور ریاض خان کا نام بھی دولتِ اسلامیہ کی فائلوں میں موجود ہے۔

جرمنی کے انسداِ دہشت گردی ڈیپارٹمنٹ کی پولیس ان فائلوں کا مطالعہ کر رہی ہے۔

سیمی ایمور

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنسیمی ایمور

کچھ تجزیہ نگاروں نے ان دستاویزات میں استعمال ہونے والی زبان اور دیگر عجیب چیزوں کے باعث ان کے مستند ہونے پر سوالات اٹھائے ہیں۔ مثال کے طور پر بھرتی کے فارم میں تنظیم کے پرانے نام کے دو مختلف لوگو استعمال ہوئے ہیں۔ اس میں کسی جنگجو کی ہلاکت کے مقام کے حوالے سے موجود خانے میں ’شہید‘ کے بجائے ہلاک کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔

مگر اس رائے کو دو ٹوک نہیں کہا جا سکتا کیونکہ یہ دستاویزات دولتِ اسلامیہ نے عوامی استعمال کے لیے نہیں بنائیں، اس لیے ہو سکتا ہے کہ جن لوگوں نے یہ سوال نامے بنائے ہوں انھوں نے اس کو پبلک دستاویز کے طور پر دیکھا ہی نہ ہو۔

یہ قابلِ غور ہے کہ یہ دستاویزات آج سے دو سال قبل کی ہیں جب اس تنظیم نے ابھرنا شروع کیا تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب ان کا عراق اور شام کے اردگرد زمین پر قبضے میں تیزی نہیں آئی تھی اور جب اس کی بیوروکریسی اور تنظیمی صلاحیتیں کم پروان چڑھی تھیں۔