پیرس حملوں کے مشتبہ حملہ آور کا ’وکیل سے رابطہ‘

،تصویر کا ذریعہReuters
ایک غیر تصدیق شدہ اطلاع کے مطابق پیرس حملوں کے مشتبہ حملہ آور صالح عبدالسلام نے اپنے وکیل سے رابطہ کیا ہے۔
13 نومبر کو پیرس حملوں کے چند ہی گھنٹوں کے بعد صالح عبدالسلام بیلجیئم مفرور ہو گئے تھے۔
خبر رساں ادارے بیلگا نے ایک قابلِ اعتماد ذریعے کے حوالے سے خبر دی ہے کہ مفرور مشتبہ حملہ آور صالح نے اپنے وکیل سوین مارے سے رابطہ کیا تھا۔
تاہم وکیل سوین میرے نے اس پر بات کرنے سے انکار کر دیا ہے جبکہ فیڈرل پراسیکیوٹر نے اسے ’صرف ایک افواہ‘ قرار دیا ہے۔
ادھر پیرس میں پراسیکیوٹر نے سینٹ ڈینس کے فلیٹ میں خود کش حملہ کرنے والے کی شناخت چیکب اقروح کے نام سے کی ہے اور کہا ہے کہ ان کا حملہ آوروں کے ساتھ تعلق تھا۔
اقروح کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ ان کی عمر 26 سال تھی اور وہ بیلجیئم اور موروکو کی شہریت کے حامل تھے۔

،تصویر کا ذریعہAP
بیلجیئم میں میڈیا سے گفتگو میں عبدالسلام کے وکیل نے کہا کہ نہ تو وہ اس رابطے کی تصدیق کر سکتے ہیں اور نہ ہی اس سے انکار کر سکتے ہیں۔ جبکہ خبر رساں ادارے بیگا نے یہ نہیں بتایا کہ مفرور ہونے والے مبینہ حملہ آور نے اپنے وکیل سے کب رابطہ کیا تھا۔
بیلجیئم کے ٹی وی پر خبروں میں وکیل کی گفتگو کو بھی دکھایا گیا جس میں انھوں نے کہا کہ ’میں بات نہیں کرسکتا اور نہ کرنا چاہتا ہوں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خیال رہے سے گذشتہ ماہ بھی انھوں نے بیلجیئم کے ایک اخبار میں بھی اسی قسم کے شائع ہونے والے دعوے کی تردید کی تھی۔
وکیل سوین میرے کہتے ہیں کہ وہ مفرور مشتبہ حملہ آور کی نمایندگی کرنے کے لیے تیار ہوں گے جن کے بارے میں یہ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ انھوں نے فرانس میں تین خودکش حملہ آوروں کو حملے کے مقام تک پہنچایا تھا۔
رواں ہفتے بیلجیئم کی سرحد کے قریب پیرس کے شمال میں واقع ایک پیٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمرے سے ملنے والی فوٹیج میں بھی عبدالسلام کو دیکھا جا سکتا ہے۔
انھیں حمزہ عطاؤ کے ساتھ دیکھا گیا جو ان دو افراد میں سے ایک ہیں جنھوں نے انھیں بیلجیئم پہنچایا تھا۔
گذشتہ روز پیرس کے پراسیکیوٹر نے کہا تھا کہ انھوں نے ان تین رہائش گاہوں کا پتہ لگایا ہے جنھیں پیرس حملوں میں ملوث افراد نے استعمال کیا۔
تفتیش کاروں نے بھی چارلی روئے کے علاقے میں موجود فلیٹ میں پیرس حملوں کے ماسٹر مائنڈ احمد اباعود اور بلال ہادفی کے انگلیوں کے نشانات کی شناخت کی ہے۔







