صدارتی انتخاب کی دوڑ میں ٹرمپ اور ہلیری کی سبقت برقرار

،تصویر کا ذریعہAFP
امریکہ میں صدارتی امیدوارکے لیے انتخابی دوڑ میں اپنی اپنی پارٹیوں کی جانب سے ڈونلڈ ٹرمپ اور ہلیری کلنٹن نے تازہ ووٹنگ کے مرحلے میں اپنے حریفوں پر سبقت برقرار رکھی ہے۔
کینسس اور مینی میں ٹیڈ کروز سے شکست کے باوجود ریپبلیکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے لوزیانا اور کینٹکی میں جیت حاصل کی ہے۔
جبکہ دوسرے ریپبلیکن امیدوار مارکو روبیو اور جان کیسچ کی پوزیشن میں کوئی بہتری نہیں آئی ہے۔
دوسری جانب ڈیموکریٹک پارٹی کی امیدواری میں کینسس اور نیبریسکا میں شکست سے دوچار ہونے والی ہلیری کلنٹن کو لوزیانا میں جیت حاصل ہوئی ہے۔
تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ ریپبلیکن امیدواروں میں اب ٹیکسس کے سنیٹر ٹیڈ کروز ہی ایسے امیدوار نظر آ رہے ہیں جو مسٹر ٹرمپ کو روک سکتے ہیں کیونکہ ریپبلیکن انتظامیہ نے نیو یارک کے ارب پتی تاجر کو تنقید کا نشانہ بنانے کے لیے ہر حربہ استعمال کر لیا ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ ٹیڈ کروز اور ورمونٹ کے سنیٹر سینڈرس دونوں نے کاکسز میں تو جیت حاصل کی ہیں لیکن پرائمری میں شکست کھا گئے ہیں۔ خیال رہے کہ پرائمری میں زیادہ ووٹ ہوتے ہیں۔
ابھی تک جن ریاستوں میں ووٹ ہوئے ہیں ان میں سے ٹرمپ کو مجموعی طور پر 12 میں جیت حاصل ہوئي جبکہ ٹیڈ کروز کو چھ میں اور مارکو روبیو کو ایک میں جبکہ کیسچ کو کسی میں بھی جیت حاصل نہیں ہوئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty
دوسری جانب ہلیری کلنٹن کو 11 ریاستوں میں اب تک کامیابی حاصل ہوئی ہے جبکہ برنی سینڈرس نے مجموعی طور پر سات ریاستوں میں جیت حاصل کی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لوزیانا میں ہونے والا مقابلہ ہلیری کلنٹن نے بہ آسانی جیت لیا ہے جس سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ مسٹر سینڈرس کی افریقی امریکی ووٹروں میں حمایت کی کمی ہے۔
دوسری جانب مسٹر ٹرمپ اور مسٹر کروز دونوں نے ریپبلیکن پارٹی کے دوسرے امیدواروں سے کہا ہے کہ وہ اس مقابلے سے دست بردار ہو جائیں۔
کنٹکی اور لوزیانا میں جیت کے بعد مسٹر ٹرمپ نے اخباری نمائندوں سے کہا: ’میں ٹیڈ کروز سے آمنے سامنے کا مقابلہ چاہتا ہوں۔‘
جبکہ مسٹر کروز نے سنیٹر روبیو اور اوہایو کے گورنر مسٹر کیسچ کو کنارہ کش ہونے کا مشورہ دیا۔
انھوں نے کہا: ’جب تک میدان منقسم رہیں گے تب تک ڈونلڈ ٹرمپ کو برتری حاصل رہے گي۔‘
ہلیری کلنٹن نے تازہ جیت کے بعد کہا کہ وہ اپنی جیت کی مجموعی تعداد سے خوش ہیں۔
انھوں نے کہا: ’ڈیموکریٹک کی جانب سے چاہے کوئی بھی امیدوار قرار پائے لیکن مجھے اس میں ذرا بھی شک نہیں کہ ہمارا خراب ترین دن بھی ریپبلیکن کے بہترین دن سے اچھا رہے گا۔‘







