’جن کو بوتل میں بند کرنے کی کوشش‘

،تصویر کا ذریعہGetty
- مصنف, برجیش اُپادھیائے
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، واشنگٹن
جمہوریت کا ایکسپورٹ امریکہ میں ایک بڑا بزنس رہا ہے۔ ضرورت ہو یا نہ ہو امریکہ بیچ رہا ہے تو دنیا کو اسے خریدنا بھی پڑتا ہے۔
آئی فون اور سام سنگ کے ماڈلز کی طرح ہر ملک کی ضرورت کے حساب سے وہ جمہوریت کے ماڈل تیار کرتا ہے۔
پاکستان کے لیے مختلف، مصر کے لیے کچھ اور، عراق کے لیے بلکل الگ اور جہاں اس کے تیار کردہ ماڈل میں کچھ خرابی آجاتی ہے تو وہ اس کی مرمت بھی کرتا رہتا ہے۔ کون اتنی محنت کرتا ہے دوسروں کے لیے؟ ایسی کسٹمر سروس پر تو قربان جائے انسان لیکن دنیا احسان فراموش ہے، کیا کیجیے گا؟
لیکن ان دنوں جمہوریت کا جو ماڈل یہاں امریکہ میں برسوں سے کام کرتا رہا ہے اس میں کچھ دقتیں آ رہی ہیں۔
ریپبلكن پارٹی اس کی وجہ سے کچھ زیادہ ہی پریشان ہے۔ پارٹی کے مسند نشينوں کی مانیں تو یہ سب ڈونلڈ ٹرمپ کی وجہ سے ہو رہا ہے لیکن سپر ٹيوز ڈے کے بعد تو ان کے تیور اور سخت نظر آ رہے ہیں۔
تو اب پورے ماڈل کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی کوشش ہو رہی ہے۔ پارٹی کے کئی سابق سرکردہ لیڈروں نے ٹرمپ کی مخالفت شروع کر دی ہے اور اس کی قیادت مٹ رومني، جو سنہ 2012 میں ریپبلكن پارٹی کے امیدوار کے طور پر اوباما کے خلاف کھڑے ہوئے تھے اور ہار گئے تھے، کر رہے ہیں۔
اب مٹ رومني ریپبلكن ووٹروں اور پارٹی سے اپیل کر رہے ہیں کہ ملک کو بچانا ہے تو ٹرمپ سے دور ہی رہیں۔ ویسے رومني سنہ 2012 میں ٹرمپ سے مدد مانگ رہے تھے اور جب ٹرمپ نے ٹی وی پر آ کر ان کے ساتھ کھڑے ہو کر انھیں اپنی حمایت دینے کا اعلان کیا تو رومني ان کے احسان تلے دبے جا رہے تھے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
دراصل موجودہ ماڈل یہ تھا کہ آپ کو جو کرنا ہو کریں، جو کہنا ہو کہیں لیکن ذرا سنبھل کر، چاشنی لگا کر کہیں۔ لیکن ٹرمپ نے وہی باتیں بغیر لگے لپٹے کہنی شروع کر دیں، ویسے ہی جیسے فون سپیکر پر ڈال دیا گیا ہو۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اور جب ٹرین کے بھرے ڈبے میں سپیکر سے مسالےدار باتیں نکل رہی ہوں تو ظاہر ہے ڈبے کے اندر کی بھیڑ اپنا کان ادھر ہی لگا دے گی۔
پہیلیوں سے کام نہ لیتے ہوئے ایک مثال دیتا ہوں آپ کو۔ پارٹی کے دوسرے امیدوار اور پارٹی کے کئی بڑے رہنما یہ کہتے رہے ہیں کہ میکسیکو سے غیرقانونی طریقے سے آنے والوں پر روک لگاؤ، جو آ گئے ہیں انھیں واپس بھیجو۔ ٹرمپ کہتے ہیں ایک دیوار کھڑی کر دو کہ کوئی آ ہی نہ سکے۔
پارٹی کے لیڈر کہتے ہیں شام اور عراق میں اتنے بم برساو کہ زمین فلیٹ ہو جائے۔ یعنی بچے، بوڑھے، بے گناہ بھی اگر اس کی زد میں آئیں تو اس کی پرواہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ٹرمپ تمام مسلمانوں کو کچھ وقت کے لیے امریکہ میں گھسنے سے روکنے کی بات کرتے ہیں۔
تو بس ڈگری کا فرق ہے۔ ٹرمپ وہی باتیں لاؤڈ سپیکر پر بول رہے ہیں جو پارٹی کئی بار سرگوشی کے انداز میں کہتی رہی ہے۔
انھوں نے پارٹی کے لاڈلے جارج ڈبليو بش کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عراق پر حملہ ایک غلط فیصلہ تھا۔ اب یہ بات تو پوری دنیا کہہ رہی ہے لیکن ریپبلكن پارٹی کی امیدواری کی کوشش کرنے والا بندہ یہ کہے تو لگتا ہے کہ وہ سرکٹ شاٹ کرنے جا رہا ہے۔
لیکن مشکل یہ ہو رہی ہے کہ ریپبلكن ووٹروں کی ایک بڑی تعداد ایسی بھی ہے جسے لاؤڈ سپیکر پر نشر ہونے والا یہ پروپیگنڈہ کافی پسند آ رہا ہے۔
جمہوریت کا یہ ماڈل ایسے بنایا گیا تھا کہ عوام اپنی من پسند اور مرضی کے مطابق کر سکے یا پھر کم سے کم اسے ایسا لگے کہ وہ اپنی مرضی سے کر رہی ہے۔
اب پارٹی کے مسند نشيں عوام سے کھل کر یہ کہہ رہے ہیں کہ ٹرمپ جو کر رہے ہیں وہ غلط ہے۔ کسی اور امیدوار کے لیے عوام اتنا جوش دکھا رہی ہوتی، تو پارٹی کہتی یہ صحیح معنوں میں جمہوریت کی جیت ہے۔
دیکھا جائے تو ٹرمپ اس جن کی طرح بن گئے ہیں جس نے الہ دین کا حکم ماننا ترک کر دیا ہے۔ اب کوشش اس بات کی ہو رہی ہے کہ اس جن کو واپس بوتل میں بند کیا جائے لیکن یہ کام کتنا مشکل ہے یہ سب کو پتہ ہے اور بوتل کے ٹوٹنے کا بھی پورا خطرہ ہے۔ تو دیکھیے اب ہوتا کیا ہے؟۔







