ڈونلڈ ٹرمپ پر ساتھی امیدواروں کی سخت تنقید

،تصویر کا ذریعہReuters
امریکہ میں صدارتی انتخابات کے لیے امیداور کی دوڑ میں شامل ریپبلکن پارٹی کے امیدواروں نے ایک ٹی وی مباحثے کے دوران اس دوڑ میں سبقت حاصل کرنے والے ڈونلڈ ٹرمپ پر شدید نکتہ چینی کی ہے۔
ایک روز پہلے ہی ریپبلکن پارٹی کے بعض سرکردہ رہنماؤں نے ووٹرز سے ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت نہ کرنے کی اپیل کی تھی۔
ڈیٹرائٹ میں ڈونلڈ ٹرمپ اپنے حریف ماکو روبیو اور ٹیڈ کروز کی شدید نکتہ چینی کے سبب دفاعی موڈ میں تھے جنھوں نے ٹرمپ کی بعض خامیوں اور کمزریوں کو اجاگر کیا۔
اس بحث کا اہتمام فوکس نیوز نے کیا تھا جس کے دوران ٹرمپ نے اپنے ساتھی امیدوار، فلوریڈا سے سینیٹر مارکو ربیو کے لیے ’چھوٹے روبیو‘ جبکہ ٹیڈ کروز کے لیے ’جھوٹے کروز‘ جیسے بعض نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا۔
فلوریڈا کے سینیٹر نے کہا کہ ’وہ قدامت پسند تحریک کو ایسے شخص کو سونپنے کے ہرگز قائل نہیں ہیں جس کے خیال میں خفیہ جوہری گروپ 1980 کے عشرے کا کوئی راک بینڈ ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP
تاہم ان کے حریفوں نے یہ ضرور کہا کہ اگر وہ نامزدگی کی دوڑ جیت گئے تو وہ ان کی حمایت کریں گے۔
فوکس نیوز نے جب مسٹر ٹرمپ کو شام کے پناہ گزینوں، افغانستان میں جنگ اور سابق صدر جارج بش کے متعلق بار بار اپنے موقف کے میں تبدیلی لانے کے لیے چیلنج کیا تو انہوں نے اس کا بھی دفاع کیا۔
انہو نے نے کہا ’میں اندر سے بہت مضبوط ہوں۔ لیکن میں نے تو کسی بھی ایسے کامیاب شخص کو نہیں دیکھا جو حالات کے مطابق نہ بدل جاتا ہو، کس کے پاس تھوڑی سی لچک نہیں ہوتی ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس بحث کی ابتدا میں فوکس نیوز نے ان سے 2012 میں صدارتی انتخابات لڑنے والے مٹ رومنی کے ان بیانات کے متعلق پوچھا جس میں انہوں ٹرمپ پر شدید تنقید کی تھی۔
اس پر جانب ڈونلڈ ٹرمپ نے مٹ رومنی کا مذاق اڑاتے ہوئے انھیں ایک ’ناکام امیدوار‘ اور ’چوک آرٹسٹ‘ قرار دیا۔ اور کہا کہ ’مٹ رومنی نے سنہ 2012 میں بد ترین مہم چلائی، انھیں براک اوباما کو شکست دینی چاہیے تھی۔‘

،تصویر کا ذریعہEPA
ریپبلکن پارٹی کے رہنما مٹ رومنی نے صدارتی امیدوار کی دوڑ میں شامل ڈونلڈ ٹرمپ پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ کہ ٹرمپ کے پاس صدر بننے والا نہ مزاج ہے اور نہ ہی فیصلے کی قوت ہے۔
مٹ رومنی نے جمعرات کو ایک تقریر کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ پر ضدی، عورت بیزار اور بد دیانت ہونے کا الزام عائد کیا تھا۔ ان کا مزید کہنا تھا ’اگر ٹرمپ ریپبلکن پارٹی کےصدارتی امید وار بن گئے تو امریکہ کے محفوظ اور خوشحال مستقبل بننے کے امکانات ختم ہو جائیں گے۔‘
ادھر ریپبلکن پارٹی کے سینئیر رہنماؤں نے ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے صدارتی امیدوار کی نامزدگی حاصل کرنے پر اپنے خدشات کا اظہار کیا ہے۔







