کولون: کارنیول کی تقریب میں 22 جنسی حملے

کولون میں خواتین پر بڑی تعداد میں حملوں نے پورے جرمنی کو چونکا دیا ہے

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنکولون میں خواتین پر بڑی تعداد میں حملوں نے پورے جرمنی کو چونکا دیا ہے

جرمنی کے شہر کولون میں پولیس کا کہنا ہے کہ شہر کے روایتی کارنیول کی تقریبات کی پہلی رات کے دوران 22 جنسی حملے پیش آئے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے 190 افراد کو اپنی حراست میں لیا ہے۔

پولیس اہلکارں نے مشتبہ افراد کے بارے میں کہا کہ وہ ’عام عوام کے نمائندے‘ ہیں۔

شہر میں سکیورٹی انتظامات اس وقت بڑھا دیے گئے تھے جب سالِ نو کی تقریبات کے دوران کئی خواتین پر جنسی حملے کیے گئے تھے۔

جرمنی نے ان حملوں کی ذمہ داری ملک میں آنے والے تارکینِ وطن پر ڈالی تھی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ گذشتہ سال کی کارنیول تقریبات کے مقابلے میں اس سال زیادہ حملے پیش آئے ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنپولیس کا کہنا ہے کہ گذشتہ سال کی کارنیول تقریبات کے مقابلے میں اس سال زیادہ حملے پیش آئے ہیں

پولیس کا کہنا ہے کہ گذشتہ سال کی کارنیول تقریبات کے مقابلے میں اس سال زیادہ حملے ہوئے ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ تقریب کے بعد ایک خاتون اپنے گھر کو لوٹ رہی تھیں جب ان پر حملہ کر کے انھیں ریپ کیا گیا جس کے بعد ایک مشتبہ فرد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

مغربی جرمنی میں واقع شہرکولون میں ہفتہ بھر تقریبات کے لیے 2500 پولیس افسران تعینات کیے گئے ہیں۔

ان تقریبات میں عام طور پر 15 لاکھ لوگ شرکت کرتے ہیں۔

اضافی سکیورٹی کے باوجود اس سال کی تقریبات میں لوگوں کی تعداد معمول سے کم دکھائی دی ہے لیکن حکام کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ شہر میں ہونے والی بارشیں ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ شمالی افریقہ سے تعلق رکھنے والے شرابی افراد خواتین کو اپنا ہدف بنا رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنحکام کا کہنا ہے کہ شمالی افریقہ سے تعلق رکھنے والے شرابی افراد خواتین کو اپنا ہدف بنا رہے ہیں

اضافی سکیورٹی انتظامات میں ’باڈی کیمس‘ شامل ہیں جو واقعات کے دوران مشتبہ افراد کی ویڈیو لے سکتے ہیں۔

سالِ نو میں ہونے والی بدنظمی کے باعث ملک میں آنے والے تارکین وطن کے بارے میں خدشات بڑھ گئے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ شمالی افریقہ سے تعلق رکھنے والے شرابی افراد خواتین کو اپنا ہدف بنا رہے ہیں۔

کولون میں خواتین پر بڑی تعداد میں حملوں نے پورے جرمنی کو چونکا دیا تھا۔

اِن حملوں کے بعد جرمنی میں تارکینِ وطن مخالف مظاہرے بھی ہوئے جبکہ پاکستانیوں سمیت دیگر تارکینِ وطن پر حملوں کی بھی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔

خواتین سے بدسلوکی کے واقعات کی وجہ سے جرمنی میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے اور جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے جرائم میں ملوث پناہ گزینوں کو ملک بدر کرنے کے لیے قانون میں تبدیلیاں بھی تجویز کی ہیں۔