شامی حزب اختلاف مذاکرات کے لیے جنیوا میں

شام کے متحارب گروپ کو قریب لانے کے لیے یہ نام نہاد مذاکرات چھ مہینے تک جاری رہیں گے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنشام کے متحارب گروپ کو قریب لانے کے لیے یہ نام نہاد مذاکرات چھ مہینے تک جاری رہیں گے

شام کے متعلق سوئٹزرلینڈ میں منعقد ہونے والے امن مذاکرات میں شرکت کے لیے شامی حزب مخالف کے اہم گروپ جنیوا پہنچ گئے ہیں۔

ایک روز قبل انھوں نے اقوام متحدہ کی نگرانی میں کرائے جانے مذاکرات میں شمولیت سے انکار کیا تھا۔

تاہم ایک ترجمان نے کہا ہے کہ وہ فضائی حملے روکنے کے اپنے مطالبے پر ابھی بھی قائم ہیں۔

انھوں نے کہا کہ وہ شام کی حکومت سے اسی وقت مذاکرات کریں گے جب ان کی جانب سے فضائی حملے رک جائیں۔

اتوار کو حزب اختلاف کا وفد اقوام متحدہ کے سفیر سٹیفن ڈی مسٹورا سے ملاقات کریں گے۔

شام میں پانچ سال سے جنگ کے نتیجے میں ڈھائی لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ ایک کروڑ سے زیادہ افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔

خیال رہے کہ شام کی جنگ یورپ میں پناہ گزین کے بحران کا بڑا محرک بھی ہے۔

سنیچر کو ترکی سے یونان جانے والی ایک کشتی بحیرۂ ایجین میں ڈوب گئی ہے جس میں کم از کم 39 افراد ڈوب کر ہلاک ہو گئے ہیں۔

اتوار کو حزب اختلاف کا وفد اقوام متحدہ کے سفیر سٹیفن ڈی مسٹورا سے ملاقات کریں گے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشناتوار کو حزب اختلاف کا وفد اقوام متحدہ کے سفیر سٹیفن ڈی مسٹورا سے ملاقات کریں گے

سعودی عرب کی حمایت یافتہ حزب اختلاف کی اعلی مذاکراتی کمیٹی (ایچ این سی) جمعے کی رات کو جنیوا کے مذاکرات میں شامل ہونے کو راضی ہوگئی۔ شامی حکومت کا وفد پہلے ہی وہاں پہنچ چکا ہے اور اس نے مسٹورا سے ملاقات بھی کی ہے۔

ایچ این سی کے ترجمان سالم مسلات نے جنیوا پہنچنے پر کہا کہ وہ حکومت کے قید سے خواتین اور بچوں کی رہائی، فضائی حملوں کا خاتمہ اور محصور شہروں میں امداد کی اجازت چاہتے ہیں۔ تاہم انھوں نے کہا کہ یہ مذاکرات کی شرائط میں شامل نہیں ہیں۔

انھوں نے اخباری نمائندوں کو بتایا: ’ہم ہمیشہ پرامید رہے ہیں لیکن ہمیں یہ مسئلہ درپیش ہے کہ شام میں آمریت ہے۔ اگر وہ ان مسائل کے حل کے لیے تیار ہوتے تو ہم شام میں یہ جرم اور قتل عام نہیں دیکھتے۔‘

لیکن ایچ این سی کے سربراہ ریاد حجاب جو جنیوا میں نہیں ہیں انھوں نے اپنے آن لائن پیغام میں کہا ہے کہ ’اگر شامی حکومت یہ جرائم کرتی رہتی ہے ہے تو ان کے وفد کی موجودگی کا وہاں کوئی جواز نہیں۔‘

متحارب گروپ کو قریب لانے کے یہ نام نہاد مذاکرات چھ مہینے تک جاری رہیں گے۔ دونوں فریق کے وفد علیحدہ علیحدہ کمروں میں ہوں گے جبکہ کہ اقوام متحدہ کے اہلکار یہاں سے وہاں کرتے رہیں گے۔

ان مذاکرات کی فوری ترجیحات میں وسیع جنگ بندی، انسانی بنیادوں پر دی جانے والی امداد کی اجازت اور دولت اسلامیہ کے خطرات کو روکنا شامل ہے۔