شامی اپوزیشن کے اہم گروپ کا مذاکرات میں شرکت کا اعلان

،تصویر کا ذریعہAP
سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں منعقد ہونے والی امن مذاکرات میں شامی حزب مخالف کے اہم گروپ نے شرکت کا اعلان کیا ہے۔
جنیوا میں مذاکرات کا آغاز جمعے کو ہوا ہے اور اس میں اقوام متحدہ کے ایلچی سٹافن ڈی میستورا نے شامی حکومت کے نمائندہ گروپ سے ملاقات کی ہے۔
ان مذاکرات کی ترجیحات میں جنگ بندی،انسانی بنیادوں پر امداد کی فراہمی اورخود کو دولتِ اسلامیہ کہنے والی شدت پسند تنظیم کو روکنا شامل ہیں۔
اس سے پہلے سعودی عرب کے حمایت یافتہ صدر بشار الاسد کی مخالف تنظیموں پر مشتمل اپوزیشن اتحاد’ایچ این سی‘ نے کہا تھا کہ وہ اس صورت میں مذاکرات میں شرکت کریں گے جب تک سرکاری فورسز فضائی حملے بند اور ناکہ بندی ختم نہیں کر دیتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
’ایچ این سی‘ کے ایک اعلیٰ مندوب نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ ان کے 30 سے 35 افراد جنیوا جائیں گے۔
اس سے پہلے ’ایچ این سی‘ کے قریبی ذرائع کا کہنا تھا کہ ان کا وفد مذاکراتی گروپ کے طور پر بات نہیں کرے گا۔
’ایچ این سی‘ کے قریب ایک کارکن فرح التسری نے روئٹرز نیوز ایجنسی کو بتایا ہے کہ ان کی ٹیم اقوام متحدہ کے ایلچی سٹافن ڈی میستورا سے بات چیت کرے گی لیکن شامی حکومت سے براہ راست مذاکرات نہیں کرے گی۔
امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے بھی جمعے کو ایچ این سی سے ٹیلی فون پر بات ہوئی جس میں انھوں نے مذاکرات میں شرکت پر زور دیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
امریکی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کے مطابق’ یہ اہم ہے کہ یہ بات چیت بغیر کسی شرط کے جاری رہے۔‘
اقوام متحدہ کے ایلچی سٹافن ڈی میستورا نے بھی کہا ہے کہ’ ان کے پاس یقین کرنے کا اچھا جواز موجود‘ ہے کہ ایچ این سی اتوار کو مذاکرات میں شریک ہو گا۔
یہ بات چیت تقریبا ًچھ ماہ تک چلے گی اور مذاکرات کے درمیان مختلف گروہ آمنے سامنے بیٹھنے کے بجائے مختلف کمروں میں ہوں گے جن سے اقوام متحدہ کے اراکین روابط رکھیں گے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
اس سے پہلے اقوام متحدہ کے نمائندے نے شام کی عوام کے لیے ایک ویڈیو پیغام بھیجا تھا جس میں متنبہ کیا گیا تھا کہ بات چیت ناکام نہیں ہونی چاہیے۔
اس میں کہا گيا تھا ’اب ہم آپ کی آواز سننا چاہتے ہیں، ہر اس شخص کی جو اس کانفرنس میں آرہا ہے اور کہہ رہا ہوں کہ یہ کانفرنس ایک ایسا موقع ہونا چاہیے جسے ضائع نہیں ہونے دینا چاہیے۔‘
ان مذاکرات کا حتمی مقصد اقوام متحد کی گذشتہ ماہ کی قرارداد کے مطابق معاملے کا پر امن حل ہے جس میں انتخابات کے بعد اقتدار کی منتقلی کا عمل بھی شامل ہے۔
واضح رہے کہ 2011 میں صدر بشار الاسد کے خلاف شروع ہونے والی تحریک کے بعد لڑائی میں اب تک ڈھائی لاکھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور تقریباً ایک کروڑ دس لاکھ اپنا گھر چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔







