’دولتِ اسلامیہ نے پیرس پر حملہ کرنے والوں کی ویڈیو جاری کر دی‘

ویڈیو میں نظر آنے والی تصاویر میں ایک شخص عبدالحمید اباعود سے بھی مشابہت رکھتا ہے جنھیں پیرس میں حملوں کا ’منصوبہ ساز‘ سمجھا جاتا ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنویڈیو میں نظر آنے والی تصاویر میں ایک شخص عبدالحمید اباعود سے بھی مشابہت رکھتا ہے جنھیں پیرس میں حملوں کا ’منصوبہ ساز‘ سمجھا جاتا ہے

جہادی سرگرمیوں کی نگرانی کرنے والے ایک گروپ کا کہنا ہے کہ شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نےگذشتہ برس نومبر میں فرانسیسی دارالحکومت پیرس پر حملوں میں مبینہ مبینہ طور پر ملوث افراد میں سے کچھ کی ویڈیو جاری کی ہے۔

اس ویڈیو میں ان مشتبہ حملہ آوروں کو مشرقِ وسطیٰ میں دکھایا گیا ہے جبکہ فرانس کی حکومت نے اس ویڈیو پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔

مانیٹرنگ گروپ نے ویڈیو میں دکھائے جانے والے افراد میں سے نو کے بارے میں کہا ہے کہ ان کی شکلیں مشتبہ حملہ آوروں سے ملتی جلتی ہیں.

ویڈیو میں 13 نومبر کو حملوں کا نشانہ بننے والے مقامات کے نام بھی دیے گئے ہیں۔

پیرس کے بتاکلان تھیٹر کے علاوہ ریستورانوں اور فٹبال سٹیڈیم کے قریب ہونے والے دھماکوں اور فائرنگ سے 130 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

یہ ویڈیو خود کو دولتِ اسلامیہ کہنے والے گروپ کے میڈیا چینل کے ذریعے جاری کی گئی ہے۔

پیرس کے بتاکلان تھیٹر کے علاوہ ریستورانوں اور فٹبال سٹیڈیم کے قریب ہونے والے دھماکوں اور فائرنگ سے 130 افراد ہلاک ہوئے تھے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنپیرس کے بتاکلان تھیٹر کے علاوہ ریستورانوں اور فٹبال سٹیڈیم کے قریب ہونے والے دھماکوں اور فائرنگ سے 130 افراد ہلاک ہوئے تھے

ویڈیو کا تجزیہ کرنے والے ایک ماہر کا کہنا ہے کہ پیرس حملوں میں مبینہ طور پر ملوث چار حملہ آوروں کو ویڈیو میں قیدیوں کے سر قلم کرتے اور ان پر گولیاں چلاتے دیکھا جا سکتا ہے۔

مانیٹرنگ گروپ کا کہنا ہے کہ ویڈیو پیرس پر حملے سے قبل شام کے شہر رقہ میں فلمائی گئی ہے۔ رقہ شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کا گڑھ ہے۔

ویڈیو میں نظر آنے والی تصاویر میں ایک شخص عبدالحمید اباعود سے بھی مشابہت رکھتا ہے جنھیں پیرس میں حملوں کا ’منصوبہ ساز‘ سمجھا جاتا ہے۔

بیلجیئم کے شہر اباعود حملوں کے کچھ دن بعد پیرس کے علاقے ساں ڈنی میں پولیس کے آپریشن کے دوران مارے گئے تھے۔

پیرس پر حملہ کرنے والے افراد میں سے نو حملے کے دوران یا پھر اس کے کچھ دن بعد مارے گئے تھے اور خدشہ ہے کہ دو تاحال مفرور ہیں۔

حال ہی میں ایک غیر تصدیق شدہ اطلاع سامنے آئی تھی جس کے مطابق مفرور افراد میں سے ایک صالح عبدالسلام نے اپنے وکیل سے رابطہ کیا ہے۔