’پیرس حملوں کے منصوبہ ساز سمیت دولتِ اسلامیہ کے دس کمانڈر ہلاک‘

،تصویر کا ذریعہAP
امریکی فوج نے گذشتہ ایک ماہ کے دوران شام اور عراق میں امریکہ کی قیادت میں کیے جانے والے فضائی حملوں میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے کم سے کم 10 کمانڈروں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے۔
امریکی فوج کے ترجمان نے بتایا ہے کہ ہلاک کیے جانے والوں میں سے بعض کا تعلق گذشتہ ماہ کیے جانے والے پیرس حملوں سے بھی ہے۔
<link type="page"><caption> دولتِ اسلامیہ اپنا وجود کیسے برقرار رکھ رہی ہے؟</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/12/151215_how_is_managing_survice_rwa.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> ’رمادی سے دولتِ اسلامیہ کی پسپائی ایک اہم قدم ہے‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/12/151228_iraqi_pm_ramadi_recapture_sr.shtml" platform="highweb"/></link>
ان میں سے ایک کا نام شرف المودن بتایا گیا جن کا پیرس پر حملے کرنے والے افراد کے سرغنہ عبدالحمید اباعود سے براہِ راست رابطہ تھا۔
ترجمان کرنل سٹیو وارن کا مزید کہنا تھا کہ شدت پسندف تنظیم دولتِ اسلامیہ کے یہ کمانڈر مغرب کے خلاف مزید حملے کرنے کے بارے میں منصوبہ بنا رہے تھے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
امریکی قیادت میں اتحادی افواج گذشتہ ایک سال سے شام اور عراق میں دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں کو نشانہ بنا رہی ہیں جبکہ حال میں روس نے بھی شام میں دولتِ اسلامیہ کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے۔
کرنل وارن کے مطابق شدت پسند شرف المودن 24 دسمبر کو کیے گئے فضائی حملے میں ہلاک ہوا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے بتایا کہ پیرس میں شدت پسند حملوں سے منسلک ایک اور شدت پسند عبدالقدیر حکیم بھی دو روز قبل عراق کے شہر موصل میں مارا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا ’گذشتہ ایک ماہ میں کیے حملوں میں ہم نے دولتِ اسلامیہ کی قیادت کے 10 افراد اور حملوں کے متعدد منصوبہ سازوں کو مارا۔ ان میں سے بعض کا تعلق پیرس حملوں سے بھی تھا۔‘
کرنل وارن کا کہنا تھا ’جہاں تک دولتِ اسلامیہ کے لیے منصوبہ بندی کرنے والے بیرونی افراد کا تعلق ہے تو امریکی فوج انھیں بہت جلد تلاش کر کے انھیں بھی مار دے گی۔‘
عبدالحمید اباعود بیلجیم کے باشندے تھے اور وہ پیرس میں حملوں کے بعد پیرس کے نواحی علاقے میں ایک چھاپے کے دوران ہلاک ہوئے تھے۔ پیرس حملوں میں کم سے کم 130 لوگ مارے گئے تھے۔







