امریکہ ایسے حملوں سے خوف زدہ نہیں ہوگا: اوباما

ایف بی آئی کا کہنا ہے کہ وہ اس حملے کی ایک دہشت گردی کے واقعے کے طور پر تیحقیقات کر رہی ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنایف بی آئی کا کہنا ہے کہ وہ اس حملے کی ایک دہشت گردی کے واقعے کے طور پر تیحقیقات کر رہی ہے

امریکی صدر اوباما کا کہنا ہے کہ کیلیفورنیا میں بدھ کو ہونے والے حملے سے امریکہ خوف زدہ نہیں ہوگا۔

صدر اوباما کا اپنے ہفتہ وار ریڈیو خطاب میں کہنا تھا کہ ’ ہم مضبوط ہیں لوگ ہیں‘۔ صدر اوباما نے مزید کہا ہے کہ ’یہ عین ممکن ہے کہ دونوں حملہ آور شدت پسند سوچ کے مالک ہوں۔‘

<link type="page"><caption> کیلیفورنیا میں ہلاکتیں’دہشت گردی کی کارروائی‘ہیں: ایف بی آئی</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/12/151204_california_suspects_is_links_sr" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> کیلیفورنیا میں فائرنگ، 14 شہری اور دو مشتبہ حملہ آور ہلاک</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/12/151202_california_shooting_zh" platform="highweb"/></link>

سید رضوان فاروق اور اس کی بیوی تاشفین ملک نے بدھ کو ذہنی معذوری اور بیماریوں کا شکار افراد کی مدد کے مرکز پر حملہ کر کے 14 افراد ہلاک اور 21 زخمی کر دیا تھا اور کچھ گھنٹوں بعد دونوں حملہ آور پولیس کے ساتھ فائرنگ کے نتیجے میں مارے گئے تھے۔

ایف بی آئی کا کہنا ہے کہ وہ اس حملے کی ایک دہشت گردی کے واقعے کے طور پر تیحقیقات کر رہی ہے۔

دولتِ اسلامیہ کی جانب سے ہفتے کو جاری کیےگئے ایک بیان میں حملہ آوروں کی تعریف کے ساتھ یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ حملہ آور دولتِ اسلامیہ کے حمایتی تھے۔

صدر اوباما کا اپنے ہفتہ وار خطاب میں مزید کہنا تھا کہ ’ہم جانتے ہیں کہ دولتِ اسلامیہ اور دیگر دہشت گرد گروہ ہمارے ملک اور دنیا بھر میں لوگوں کو اپنے طور پر دہشت گردی کی کارروائیاں کر نے کی ترغیب دے رہے ہیں۔‘

’ہم سب ، حکومت، قانون نافذ کرنے والے ادارے، عوام اور مذہبی رہنماؤں کو لوگوں کو نفرت انگیز سوچ کا شکار ہونے سے بچانے کے لیے مل کر کام کرنا پڑے گا۔

اس سے قبل امریکی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ ریاست کیلیفورنیا کے علاقے سان برنارڈینو میں ایک سوشل سینٹر پر حملہ کرنے والے خاتون تاشفین ملک نے فیس بک پر شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے رہنما کی بیعت کی تھی۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ رضوان فاروق کے ہمراہ حملہ کرنے والی خاتون تاشفین ملک نے فیس بک کے ایک دوسرے اکاؤنٹ کے ذریعے شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے رہنما سے وفاداری کے بارے میں پوسٹ کی تھی۔

دوسری جانب امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ ایسے شواہد نہیں ملے ہیں کہ ان دونوں حملہ آوروں نے شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے کہنے پر حملہ کیا۔