کیلیفورنیا میں ہلاکتیں’دہشت گردی کی کارروائی‘ہیں: ایف بی آئی

،تصویر کا ذریعہABC NEWS AP
امریکہ کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کا کہنا ہے کہ کیلیفورنیا میں ہونے والے حملے جس میں 14 افراد ہلاک ہوئے تھے کی تحقیقات دہشت گردی کے واقعے کے طور پر کی جا رہی ہیں۔
ایف بی آئی کے ڈائریکٹر جیمز کومی کا کہنا ہے کہ ’یہ شادی شدہ جوڑا بنیادی طور پر غیر ملکی شدت پسند گروہوں سے متاثر تھا۔‘
تاہم ان کا کہنا ہے کہ ’اس جوڑے کے کسی بھی شدت پسندگروہ کا حصہ ہونے کے ثبوت نہیں ملے ہیں۔‘
جیمز کومی نے مزید بتایا کہ ’تحقیقات ابھی ابتدائی مراحل میں ہے اور بہت سے ایسے ثبوت ملے ہیں جن کا اس سے کوئی تعلق نہیں دکھائی دے رہا۔‘
اب سے کچھ دیر قبل ایف بی آئی کے ہی اہلکار ڈیوڈ بوڈچ کا کہنا تھا کہ تاشفین ملک اور اُن کے شوہر رضوان فاروق نے حملہ کرنے سے قبل ’بھرپور منصوبہ بندی‘ کی تھی۔
وفاقی تحقیقاتی ادارے کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ تاشفین ملک کے خود کو دولت اسلامیہ کہنے والی شدت پسند تنظیم کے ساتھ بیعت کرنے کی خبروں کی تحقیقات بھی کر رہا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہAFP
کیلیفورنیا میں مارے گئے دو مشتبہ افراد کی شناخت رضوان فاروق کے گھر والوں کے وکلا نے جمعہ کو بتایا کہ ’الگ تھلگ رہنے والے شخص تھے اور ان کے کچھ ہی دوست تھے جبکہ ان کی بیوی خیال رکھنے والی نرم گفتار کرنے والی خاتون خانہ تھیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ان دونوں کے انتہا پسندانہ خیالات کے کوئی شواہد نہیں ملے ہیں۔‘
وکلا نہ مزید بتایا کہ ’فاروق کے گھر والے جانتے تھے کہ فاروق کے پاس دو گنیں ہیں اور ان کے ساتھ کام کرنے والے ان کی داڑھی کا مذاق اڑاتے تھے۔‘
اس سے قبل امریکی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ ریاست کیلیفورنیا کے علاقے سان برنارڈینو میں ایک سوشل سینٹر پر حملہ کرنے والے خاتون تاشفین ملک نے فیس بک پر شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے رہنما کی بیعت کی تھی۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ رضوان فاروق کے ہمراہ حملہ کرنے والی خاتون تاشفین ملک نے فیس بک کے ایک دوسرے اکاؤنٹ کے ذریعے شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے رہنما سے وفاداری کے بارے میں پوسٹ کی تھی۔
اطلاعات کے مطابق تاشفین ملک نے فیس بک پر شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے رہنما ابوبکر بغدادی کی حمایت میں ایک پیغام لکھا تھا جیسے بعد میں ہٹا دیا گیا۔
دوسری جانب امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ ایسے شواہد نہیں ملے ہیں کہ ان دونوں حملہ آوروں نے شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے کہنے پر حملہ کیا۔
ایک اہلکار نے اخبار کو بتایا کہ ’اس مرحلے پر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ خود انتہا پسندانہ رجحان رکھتے تھے اور فائرنگ کی ہدایات ملنے کے بجائے وہ خود اس گروہ سے متاثر تھے۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters
بدھ کو ذہنی معذوری اور بیماریوں کا شکار افراد کی مدد کے مرکز پر ہونے والے حملے میں 14 افراد ہلاک اور 21 زخمی ہوئے تھے۔
تاشفین ملک اور اُن کے شوہر رضوان فاروق اس واقعے کے کچھ گھنٹے بعد پولیس کے ساتھ ایک مقابلے کے دوران مارے گئے تھے۔
سینٹر پر حملے کے بعد پولیس نے حملہ آوروں کے مکان پر چھاپے مارا تھا، جہاں سے اسلحہ، گولیاں اور بم بنانے کے آلات ملے تھے۔
امریکی حکومت کے ذارئع کا کہنا ہے کہ پولیس کے چھاپے سے قبل ہی حملہ آوروں نے کمپیوٹر کی ہارڈ ڈسک اور دیگر آلات تباہ کر دیے تھے۔
اس سے قبل امریکی حکام کا کہنا تھا کہ سان برنارڈینو میں ایک سوشل سینٹر پر اپنے شوہر رضوان فاروق کے ہمراہ حملہ کرنے والی خاتون تاشفین ملک کو امریکی ویزا پاکستان سے جاری کیا گیا تھا اور وہ ممکنہ طور پاکستانی شہری ہی تھیں۔
تاشفین ملک پاکستان میں پیدا ہوئی تھیں لیکن وہ سعودی عرب میں مقیم تھیں۔
تاشفین ملک کے ایک رشتے دار نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ پاکستان میں خفیہ ایجنسیوں نے اُن کے رشتے داروں سے رابطہ کیا ہے۔
ادھر پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ امریکی حکومت نے تاشفین ملک کے بارے میں معلومات کے لیے اب تک حکومت پاکستان سے کوئی رابطہ نہیں کیا ہے۔







