کیلیفورنیا میں فائرنگ، 14 شہری اور دو مشتبہ حملہ آور ہلاک

پولیس نے تصدیق کی ہے کہ مشتبہ افراد نے کانفرنس روم میں داخل ہو کر فائرنگ کی

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنپولیس نے تصدیق کی ہے کہ مشتبہ افراد نے کانفرنس روم میں داخل ہو کر فائرنگ کی

امریکہ کی ریاست کیلیفورنیا میں پولیس کے مطابق ایک سوشل سروس سینٹر میں فائرنگ سے 14 افراد کی ہلاکت کے بعد پولیس سے فائرنگ کے تبادلے میں دو مشتبہ مسلح حملہ آوروں کو بھی ہلاک کر دیا گیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ مارے جانے والے حملہ آوروں میں ایک خاتون بھی شامل ہے اور یہ دونوں افراد خودکار رائفلوں سے مسلح اور جنگی لباس میں ملبوس تھے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ساں برنارڈینو کے علاقے میں واقع ذہنی مسائل اور بیماریوں کا شکار افراد کی مدد کے مرکز پر بدھ کی صبح ہونے والے حملے میں 17 افراد زخمی بھی ہوئے۔

پولیس نے اس سلسلے میں ایک شخص کو حراست میں بھی لیا ہے تاہم یہ واضح نہیں کہ اس کا اس حملے سے کوئی تعلق ہے کہ نہیں۔

انسدادِ دہشت گردی کی فورس نے ساں برنارڈینو کے نواح میں ریڈ لینڈز کے علاقے میں ایک اپارٹمنٹ پر بھی چھاپہ مارا ہے جہاں دھماکہ خیز مواد کی موجودگی کا شبہ ہے۔

امریکہ کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کا کہنا ہے کہ اس واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور دہشت گردی کے امکانات کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔

حملے کے بعد پولیس نے سارے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کو تلاش کیا

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنحملے کے بعد پولیس نے سارے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کو تلاش کیا

ان لینڈ ریجنل سینٹر نامی سماجی مرکز کی صدر میبتھ فیلڈ کے مطابق جب حملہ ہوا تو ادارے کے کانفرنس ایریا میں ایک تقریب جاری تھی جس میں سینکڑوں افراد شریک تھے جنھیں پولیس نے حملے کے بعد وہاں سے نکالا ۔

ٹیری پیٹیٹ نامی ایک شخص نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ ان کی بیٹی نے انھیں موبائل پر پیغام بھیجاکہ ’کچھ لوگوں نے فائرنگ کی ہے۔میں دفتر میں ہوں پولیس کا انتظار کر رہی ہوں۔ میں دفتر میں بند ہوں، ہمارے لیے دعا کریں۔‘

پولیس نے تصدیق کی ہے کہ مشتبہ افراد نے کانفرنس روم میں داخل ہو کر فائرنگ کی۔

ساں برنارڈینو پولیس کے سربراہ جیرڈ برگوان نے بدھ کی شام ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ حملہ آور پوری تیاری کے ساتھ آئے تھے ’جیسے کہ وہ کسی مشن پر ہوں۔‘

ساں برنارڈینو کے علاقے میں واقع ذہنی مسائل اور بیماریوں کا شکار افراد کی مدد کا مرکز حملے کا نشانہ بنا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنساں برنارڈینو کے علاقے میں واقع ذہنی مسائل اور بیماریوں کا شکار افراد کی مدد کا مرکز حملے کا نشانہ بنا

ساں برنارڈینو میں بی بی سی کے نامہ نگار جیمز کک نے بتایا ہے کہ ’ایسی کوئی اطلاعات نہیں ملی ہیں کہ یہ حملہ اسلام پسند شدت پسندوں کی جانب سے کیا گیا ہے۔تاہم یہاں صورتحال بہت خراب ہے۔‘

امریکی صدر براک اوباما نے اس واقعے کے بعد کہا ہے کہ ’اس قسم کی فائرنگ کے واقعات دنیا میں کہیں اور نہیں ہوتے جتنے اس ملک میں ہوتے ہیں۔ ایسے تمام حادثات کو ختم کرنے کے لیے نہ ہ سہی لیکن کم از کم ان میں کمی لانے کے لیے کچھ ایسے اقدامات ہیں جو ہم کر سکتے ہیں۔‘

یہ امریکہ میں سنہ 2012 میں کنیٹیکٹ کے سکول میں فائرنگ سے 26 ہلاکتوں کے بعد اس قسم کا سب سے ہلاک خیز واقعہ ہے۔

امریکہ میں اس قسم کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور چند روز قبل ہی کولوراڈو سپرنگز نامی شہر میں بھی خاندانی منصوبہ بندی کے ایک کلینک میں ہونے والی فائرنگ میں تین افراد ہلاک ہوئے تھے۔

حملے کے وقت عمارت میں سینکڑوں افراد موجود تھے جنھیں پولیس نے وہاں سے نکالا

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنحملے کے وقت عمارت میں سینکڑوں افراد موجود تھے جنھیں پولیس نے وہاں سے نکالا