کامیابی کے لیے شور شرابہ کیوں؟

،تصویر کا ذریعہAP
- مصنف, زبیر احمد
- عہدہ, بی بی سی، لندن سے
بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کا برطانیہ کا تین دن کا دورہ سنیچر کو ختم ہوگیا جہاں ان کا ایک سپر سٹار کی طرح استقبال کیا گیا۔
برطانوی پارلیمنٹ میں تقریر کرنے والے وہ پہلے بھارتی وزیر اعظم بنے اور اس کے ساتھ برطانیہ کی ملکہ کے بکنگھم پیلس میں کھانا کھانے والے پہلے بھارتی وزیر اعظم کا سہرا بھی انہی کے سر گیا۔
<link type="page"><caption> ’برطانوی بھارتی نہیں ہمارے ہمسائے لگتے ہیں‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/regional/2015/11/151112_modi_in_uk_tim.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> کیا مودی کے خلاف بغاوت ہو رہی ہے؟</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/regional/2015/11/151111_india_modi_mutiny_tk.shtml" platform="highweb"/></link>
برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کے استقبال اور میزبانی نے ان کا قد مزید بلند کیا۔
اتنا شاندار استقبال اور اتنی گرمجوشی سے کوئی بھی خواب کی دنیا میں کھو سکتا ہے لیکن سپنوں کی دنیا کے باہر اصل زندگی گھر پر ان کا انتظار کر رہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty
شاید مودی یہ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ دورہ اتنی جلدی کیوں ختم ہو گیا کیونکہ بہار اسمبلی انتخابات کے سپر سٹار بننے کی ان کی کوشش بری طرح ناکام رہی ہے۔
اس کے لیے احتساب انہی کا ہوگا کیونکہ بی جے پی انھی کے نام پر انتخابات میں اتری تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دوسری طرف پارٹی کے سینیئر رہنماؤں کی بغاوت کی آواز ان کے کانوں میں گونج رہی ہوگی۔ دہلی واپس جانے پر یہ آواز تیز ہونے والی ہے۔
ویمبلے سٹیڈیم کی دھوم دھام اور چمک دمک کا اثر گھر جاتے ہی ختم ہو جائے گی۔

ان کے ناقدین ایک بار پھر ان سے یہ سوال پوچھیں گے کہ بیرونی دوروں کو کم کرکے ملک کے روز افزوں مسائل پر توجہ کیوں نہیں دیتے۔
لوگ کہیں گے کہ ’عدم رواداری‘ کے ماحول کے خلاف ویمبلے اور میڈیسن سکوائر گارڈن جیسے بلند آواز بیان کیوں نہیں دیتے؟
لیکن تین دن کے برطانوی سفر کے دوران بھی سب کچھ مودی کے مزاج کے مطابق نہیں تھا۔ ڈیوڈ کیمرون کے ساتھ جوائنٹ پریس كانفرنس کے دوران برطانوی میڈیا نے ان سے چبھتے ہوئے سوالات کیے۔

،تصویر کا ذریعہGetty
یہاں تک کہ گجرات فسادات کا بھی ذکر ہوا جو کہ مودی کو بالکل پسند نہیں۔ اس کے بعد جب وہ گاندھی کے مجسمے پر پھول چڑھا رہے تھے تو نیپالی، کشمیری اور پنجابی برادری کے لوگ ان کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔
بھارت میں ان کے ناقدین بھی عزت کے دائرے میں انھیں برا بھلا کہتے ہیں لیکن یہاں تو ’مودی قاتل‘ اور ’مودی دہشت گرد‘ جیسے نعرے لگ سنے جا رہے تھے۔
زیادہ تر بھارتی میڈیا ان کے دوسرے غیر ملکی دوروں کی طرح صرف ان کی آن بان اور تارکین وطن میں ان کے بڑھتے ہوئے قد کی باتوں پر توجہ مرکوز کر رہی تھی لیکن برطانوی میڈیا انھیں بخشنے کے موڈ میں بالکل نہیں تھا۔

دی گارڈین اخبار نے اپنے ایک تازہ اداریہ میں کہا ہے کہ مودی کا دورہ اوور دی ٹاپ یا ضرورت سے زیادہ بحث میں تھا۔
دی انڈیپنڈینٹ اخبار نے لکھا کہ گجرات فسادات کا ذمہ دار کوئی بھی ہو، یہ فسادات ان کے ہی راج میں ہوئے تھے۔ (وہ اس وقت ایک سال پہلے ہی گجرات کے وزیر اعلی بنے تھے)
کئی اخباروں نے ڈیوڈ کیمرون کی اس لیے تنقید کی کہ وہ وزیر اعظم مودی کی خوشامد پر کیوں اتر آئے تھے۔
دانشوروں اور انسانی حقوق کے اداروں نے کہا کہ ڈیوڈ کیمرون کو چاہیے کہ نریندر مودی سے یہ پوچھیں کہ ان کے ملک میں عدم رواداری کے واقعات میں اضافہ کیوں ہو رہا ہے؟

لیکن ان میں سے کوئی سڑکوں پر مودی مخالف مظاہروں میں شامل نہیں ہوا۔
جہاں بھارتی نژاد کے عام لوگ اور ہندوستانی نژاد برطانوی پارلیمنٹ مودی کے آنے پر جوش نظر آ رہے تھے وہیں برطانیہ کے مقامی عوام پر ان کے دورے کا کوئی خاص اثر نظر نہیں آیا۔
ان کے لیے تجسس سے زیادہ کچھ اور نہیں تھا، لیکن دونوں رہنماؤں کے درمیان سنجیدہ باتیں بھی ہوئیں۔
سویلین جوہری معاہدے جیسے معاہدوں پر دستخط بھی کیے گئے۔ برطانیہ نے بھارت میں تین سمارٹ شہروں کی تعمیر کا سودا بھی کیا اور دونوں ممالک کے درمیان نو رب پونڈ کی تجارت پر رضامندی بھی ہوئی۔

،تصویر کا ذریعہPA
دونوں ممالک کے رشتوں میں ایک نئی جان پھونکنے کی ضرورت تھی.
اس دورے سے اس رشتے میں ایک نئی جان آ سکتی ہے لیکن یہاں ناقدین کہتے ہیں کہ یہ کامیابیاں شور شرابے کے بغیر بھی حاصل کی جا سکتی تھیں۔







