مودی کے حق اور مخالفت میں مظاہرے

سکھوں میں پایا جانے والا غم وہ غصہ بڑا واضح تھا

،تصویر کا ذریعہbbc

،تصویر کا کیپشنسکھوں میں پایا جانے والا غم وہ غصہ بڑا واضح تھا
    • مصنف, فراز ہاشمی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن

لندن میں جمعرات کو بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون سے ملاقات کے دوران وزیر اعظم کی سرکاری رہائش گاہ کے باہر فضا کئی گھنٹوں تک نریندر مودی کی مخالفت اور حق میں لگائے جانے والے نعروں سے گونجتی رہی۔

مودی کے مخالفیں، جو عددی لحاظ سے ان کے حامیوں سے کئی گنا زیادہ تھے، ان کے نعروں ’گو بیک مودی گو بیک‘ میں اس وقت شدت آ گئی جب نریندر مودی ڈیوڈ کیمرون سے ملاقات کر کے باہر نکلے۔

نریندر مودی کے حق اور مخالفت میں ہونے والے مظاہروں کے ایک ہی وقت ایک ہی جگہ پُرامن انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے لندن کی میٹروپولیٹن پولیس نے مناسب اقدمات کر رکھے تھے اور پولیس اہلکاروں کی ایک بڑی تعداد وائٹ ہال کے باہر شاہراہ پر موجود تھی۔

دو دن قبل جس شاہراہ پر دوسری جنگ عظیم میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کی یاد میں ایک پروقار تقریب منعقد ہوئی تھی اور جس میں ملکہ برطانیہ نے بھی شرکت کی تھی وہ شاہراہ نریندر مودی کے آنے پر ایک بالکل مختلف منظر پیش کر رہی تھی۔

گجرات فسادات کی بھی بازگشت اس مظاہرے میں سنائی دی

،تصویر کا ذریعہbbc

،تصویر کا کیپشنگجرات فسادات کی بھی بازگشت اس مظاہرے میں سنائی دی

ایک طرف لندن میں مقیم نیپالی کمیونٹی کی بہت بڑی تعداد بھارت اور مودی سرکار کے خلاف ہاتھوں میں بینر اور کتبے اٹھائے ’گو بیک مودی گو بیک، کے نعرے بلند کر رہے تھے تو ان کے ساتھ ہی سکھ علیحدگی پسند تنظیموں کے سینکڑوں مرد اور خواتین جن میں اکثریت عمررسیدہ لوگوں کی تھی مودی کے خلاف اور خالصتان کے حق میں بڑے جذباتی انداز میں نعرے لگا رہے تھے۔

سکھ مظاہرین میں خواتین کی بڑی تعداد شامل تھی۔
،تصویر کا کیپشنسکھ مظاہرین میں خواتین کی بڑی تعداد شامل تھی۔

سکھوں نے سنہ 1983 میں اندرا گاندھی کے قتل کے بعد ہونے والے سکھوں کے قتل عام میں ہلاک ہونے والوں کی تصاویر بھی اٹھا رکھی تھیں۔

ان ہی مظاہرین میں ایک عمر رسیدہ سکھ خاتون اپنے جوان سال بیٹے کی تصویر اٹھائے بھی موجود تھیں جن کے بیٹے کو اس قتل عام میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔

گجرات کے فسادات میں ہلاک ہونے والوں کے ہمدردوں کو بھی اس مظاہرے میں دیکھا جا سکتا تھا۔ گجرات میں ہلاک کیے جانے والے منتخب رہنما احسان جعفری کی تصویر بھی ایک شخص نے اٹھا رکھی تھی۔ قریب ہی کھڑے ایک اور شخص نے کوثر بی بی کی تصویر والا پوسٹر اٹھا رکھا تھا جس پر لکھا تھا کہ ’میرا ریپ کر کے مجھے قتل کر دیا گیا۔‘

ساوتھ ہال بلیک سسٹر تنظیم کے ارکان کو مودی سرکار کے اقتدار میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی پر تشویش ہے

،تصویر کا ذریعہbbc

،تصویر کا کیپشنساوتھ ہال بلیک سسٹر تنظیم کے ارکان کو مودی سرکار کے اقتدار میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی پر تشویش ہے

نیپال کمیونٹی کی ایک تنظیم کے رابطہ کار بزین پرسن نے بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے نیپال کی سرحد بند کر کے نیپال کی اقتصادی ناکہ بندی کر رکھی ہے۔ ایندھن کی کمی کے علاوہ نیپال میں ادویات کی کمی واقع ہو گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ وہ برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کو ایک یاد داشت پیش کریں گے جس میں ان سے نیپال کی سرحد کے معاملے کو اٹھانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

مودی کے حق میں ہونے والے مظاہرے میں سردار پٹیل میموریل نامی ایک سماجی تنظیم کے سربراہ پروین پٹیل نے اس موقع پر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ نریندر مودی اس وقت دنیا کے مقبول ترین رہنما ہیں۔ مودی مخالف مظاہرین کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ بھارت ایک ارب بیس کروڑ آبادی کا ملک ہے اور اتنی بڑی آبادی میں سب کو خوش رکھنا ممکن نہیں ہے۔

مودی کی لندن آمد پر ان کے حامی بہت خوش ہیں

،تصویر کا ذریعہbbc

،تصویر کا کیپشنمودی کی لندن آمد پر ان کے حامی بہت خوش ہیں

مودی کے حامیوں میں درجن بھر تیز رنگوں کی روائتی انڈین ساڑھیوں میں ملبوس چند خواتین بھی شامل تھیں جنھوں نے کئی میٹر لمبی ایک اونی چادر بھی اٹھا رکھی تھی۔ یہ چادر خاص طور پر انھوں نے وزیرِ اعظم مودی کو پیش کرنے کے لیے تیار کی ہے۔

سکھوں کی تنظیم ’دل خالصہ‘ کے عمر رسیدہ سربراہ منموہن سنگھ خالصہ نے کہا کہ وہ 31 سال سے جلا وطنی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ انھوں نے کہا کہ سکھوں کے ساتھ جو ظلم ہوا ہے وہ اسے کبھی نہیں بھلا سکتے۔

نیپال کے مظاہرین میں ہر عمر کے افراد شامل تھے

،تصویر کا ذریعہbbc

،تصویر کا کیپشننیپال کے مظاہرین میں ہر عمر کے افراد شامل تھے

مودی مخالفین کے درمیان ’ساؤتھ ہال بلیک سسٹر‘ تنظیم کی چند درجن خواتین بھی شامل تھیں۔ ان کی ترجمان راحیلہ گپتا نے بی بی سی کو بتایا کہ گزشتہ عرصے میں برطانیہ میں بنیاد پرستی میں واضح اضافہ ہوا ہے، خاص طور پر خواتین سے ہونے والی سماجی زیادتیوں میں۔

انھوں نے کہا کہ بنیادی پرستی میں اضافے کی وجہ سے زبردستی کی شادیوں کو مذہبی اور سماجی تحفظ حاصل ہو رہا ہے اور اس رجحان کو بھارت میں ہندو قوم پرستوں کے اقتدار میں آنے سے حوصلہ ملا ہے۔ انھوں نے کہا کہ برطانیہ میں مندروں میں اکھٹا کیا جانے والا چندہ بھی بھارت میں انتہاپسند تنظیموں کو مالی وسائل مہیا کرنے کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔