ہندوتوا کا مودی برانڈ ناقابلِ تسخیر نہیں

،تصویر کا ذریعہAFP GETTY
- مصنف, وسعت اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
بھارت کے 65 سالہ وزیرِ اعظم نریندر مودی مودی پہلی نسل کے سیاست دان اور واجبی پڑھے لکھے شخص ہیں۔ ان کی پرورش و پرداخت راشٹریہ سیوک سنگھ کے زیرِسایہ ہوئی لہٰذا وہی مذہبی و دنیاوی نظریہ حیات اپنایا جو آر ایس ایس کی پہچان ہے یعنی ہندو قوم، ہندو ریاست، ہندو طرزِ زندگی۔
مودی کے برعکس بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار 64 برس کے ہیں۔ نتیش کمار دوسری نسل کے سیاست دان اور پیشے کے اعتبار سے مکینکل انجینیئر ہیں۔
ان کے والد رام لکھن سنگھ گاندھی وادی کانگریسی تھے اور نتیش کمار جے پرکاش نرائن کے شاگرد رہے لہٰذا ان کی سوچ پر سیکیولر اور سوشلسٹ نظریہ غالب ہے۔
نریندر مودی چار بار گجرات کے وزیرِ اعلیٰ رہ چکے ہیں جب کہ نتیش کمار تیسری بار بہار کے وزیرِ اعلیٰ بن رہے ہیں۔
نریندر مودی نے گجرات کی ترقی کے نام پر وزارتِ اعلیٰ کے لیے ووٹ حاصل کیے۔ نتیش کمار نے بھی ترقی کے ایجنڈے پر تیسری بار بہار کا ریاستی انتخاب جیتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نریندر مودی نے اپنی وزارتِ اعلیٰ کے دوران گجرات میں صنعت کاری، انفراسٹرکچر اور ملکی و بیرونی سرمایہ کاری کے لیے زیادہ سے زیادہ آسانیاں پیدا کرنے پر توجہ دی اور اقتصادی اعتبار سے گجرات کو صفِ اول کی بھارتی ریاست بنا دیا۔

،تصویر کا ذریعہneerajsahay
گجرات کے برعکس اڑیسہ کے بعد بہار بھارت کی دوسری غریب ترین اور تیسری گنجان ریاست ہے لیکن وہاں نتیش کمار نے پچھلے دس برس کے دوران گڈ گورننس پر پہلے کے کسی دور کے مقابلے میں زیادہ توجہ دی اور ایسی پالیسیاں اپنائیں جن سے امیروں سے زیادہ غریبوں کو فائدہ پہنچے۔
مثلاً ریاستی بیورو کریسی کے ہاتھی کو تیز چلنے پر مجبور کرنا، کرپٹ کریسی کی اکھاڑ پچھاڑ، برسوں سے کاغذ پر زیرِ تعمیر سڑکوں، پلوں اور پبلک انفراسٹرکچر کی ترجیحاتی تکمیل، پرائمری ہیلتھ یونٹوں میں ڈاکٹروں کی دستیابی یقینی بنانا، ایک لاکھ نئے پرائمری اساتذہ کی میرٹ پر بھرتی اور سکول جانے والی بچیوں کو مفت سائیکل دینے کی سکیم جس کے سبب لاکھوں نئی بچیوں نے سکولوں کا رخ کیا۔
گجرات میں مودی کی سخت گرفت، چست انتظامی صلاحیت اور ترقی و جدت کی حوصلہ افزائی کے باوجود مسلمان اقلیت سنہ 2002 کی قتل و غارت کے بعد ہر لحاظ سے پیچھے دھکیل دی گئی مگر بہار میں غربت اور گجرات کے برعکس غیر مثالی امن و امان کے ہوتے بھی پچھلے 26 برس میں کوئی قابلِ ذکر ہندو مسلم فساد نہیں ہوا۔
نریندر مودی کو وزیرِ اعظم بننے سے پہلے ریاستی وزارتِ اعلیٰ کے سوا ریاست گجرات سے باہر کوئی انتظامی تجربہ نہیں تھا۔
نتیش کمار بہار کے وزیرِ اعلیٰ بننے سے پہلے اٹل بہاری واجپائی کی نیشنل ڈیموکریٹک الائنس مخلوط حکومت میں وزیرِ ریلوے، وزیرِ ٹرانسپورٹ اور وزیرِ زراعت کے قلمدان سنبھال چکے ہیں۔ بحثیت وزیرِ ریلوے انھوں نے انٹرنیٹ ٹکٹنگ متعارف کروائی اور ریلوے بکنگ سینٹرز کی تعداد کو چوگنا کر دیا۔
نریندر مودی نے نہ تو کبھی بحیثیت وزیرِ اعلیٰ گجرات میں قتلِ عام کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے استعفے کا عندیہ دیا اور نہ ہی انتظامی ناکامی پر کبھی کھل کے معافی مانگی بلکہ وہ سرکاری اقدامات کا دفاع ہی کرتے رہے ۔
نتیش کمار نے بحثیت وزیرِ ریلوے اگست سنہ 1999 میں گیسال ٹرین حادثے پر عہدے سے استعفی دیا اور مئی سنہ 2015 کے لوک سبھا انتخابات میں یونائٹڈ جنتا دل کی شکست کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے بہار کی وزارتِ اعلیٰ سے بھی استعفی دے دیا۔( فروری سنہ 2015 میں انھیں پھر سے وزیرِ اعلیٰ چن لیا گیا)۔
نتیش کمار کو بحیثیت اتحادی مرکز میں بی جے پی کی سابق حکومت اور پھر بہار میں سنہ 2005 سے 2010 تک بی جے پی کے ساتھ مخلوط ریاستی حکومت میں کام کرنے کا وسیع تجربہ ہے۔ وہ بی جے پی کے ورکنگ سٹائل، نظریے اور ذہن سے کسی بھی دوسرے سیکیولر لیڈر کے مقابلے میں عملاً زیادہ واقف ہیں۔
نتیش کمار کے اتحاد کی بہار کے حالیہ انتخابات میں فیصلہ کن کامیابی سے بھی زیادہ اہم یہ نکتہ ہے کہ مودی کی بلند آہنگی اور الفاظ کے الٹ پھیر کی مہارت کے برعکس نتیش کمار نے دھیمے مزاج اور عمل پسند طبیعت کو سیاسی سانچے میں ڈھالتے ہوئے اپنے دیرینہ منہ پھٹ حریف لالو پرشاد یادو اور کچھوے کی رفتار سے چلنے کی عادی کانگریس کو ایک گرینڈ الائنس میں پرو دیا۔
ووٹروں نے بھی اس اتحاد کو بھان متی کا کنبہ سمجھنے کی بجائے ایک جماعت سمجھ کے بلا امتیازِ عقیدہ، نسل اور ذات صرف اس نکتے پر ووٹ ڈالا کہ ترقی کے ٹروجن ہارس میں بیٹھ کر باہر سے حملہ آور بی جے پی کا راستہ روکا جا سکے۔
اس انتخاب سے پہلے نتیش کمار کو اچھے منتظم کے طور پر بہار کے اندر تو خوب جانا جاتا تھا مگر نریندر مودی کے ریاستی انتخابی مہم میں براہِ راست کودنے کے بعد مودی اور نتیش کو ایک ہی پلڑے میں تولا جانے لگا۔
اس کا فائدہ اور نقصان یہ ہوا کہ مودی کا قد ایک ریاستی وزیرِ اعلیٰ کے برابر ہوگیا اور ایک ریاستی وزیرِ اعلیٰ کا سیاسی قد بڑھ کے وزیرِ اعظم کے برابر ہوگیا۔
بدلے حالات میں قرینِ قیاس ہے کہ آنے والے دنوں میں قومی سطح پر اور دیگر ریاستوں کے انتخابی عمل میں مودی بمقابلہ مودی کا تاثر نتیش کمار بمقابلہ مودی سے بدلنا شروع ہو جائے اور اینٹی مودی کیمپ کو مجتمع ہونے کے لیے مضبوط کھونٹا مل جائے کیونکہ نتیش کمار نے عملاً ثابت کیا ہے کہ ہندوتوا کا مودی برانڈ ناقابلِ تسخیر نہیں۔
بہار کی مشق کے بعد مودی، بی جے پی کے صدر امیت شاہ اور آر ایس ایس کے سرسنگھ چالک موہن بھگوت بھی جان گئے ہوں گے کہ ’جو کٹے نہ آری سے وہ کٹے بہاری سے‘ محض محاورہ نہیں ہے۔







