مودی کا پارلیمنٹ سے خطاب: ’مذاکرات دو عظیم قوموں کے لیے اہم موقع‘

 بھارت اور برطانیہ دو مضبوط معیشتیں اور دو جدید معاشرے ہیں لیکن ہمارے تعلقات کو بھی نئی بلندیوں تک پہچنا ہے: مودی کا پارلیمان سے خطاب
،تصویر کا کیپشن بھارت اور برطانیہ دو مضبوط معیشتیں اور دو جدید معاشرے ہیں لیکن ہمارے تعلقات کو بھی نئی بلندیوں تک پہچنا ہے: مودی کا پارلیمان سے خطاب

لندن کے دورے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے برطانیہ اور بھارت کے درمیان حالیہ مذاکرات کو ’دو عظیم قوموں کے لیے اہم موقع‘ قرار دیا ہے۔

لندن میں برطانوی پارلیمان سے خطاب میں نریندر مودی نے کہا کہ دونوں ملکوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ ’دنیا کی قیادت کرنے والی شراکت داری قائم کریں۔‘

دورے کے دوران مودی اور وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کے 13 ارب ڈالر مالیت کے معاہدوں پر دستخط ہوں گے۔دونوں رہنماؤں کا کہنا تھا کہ وہ معیشت، دفاع، جوہری توانائی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے معاملات پر تعاون کریں گے۔

بھارتی وزیراعظم تین روزہ دورے پر برطانیہ میں ہیں اور کسی بھی بھارتی وزیراعظم کا گذشتہ دس برسوں میں برطانیہ کا یہ پہلا دورہ ہے۔ مسٹر مودی نے کہا کہ برطانیہ کے ساتھ بھارت کے تعلقات ’بہت اہم‘ ہیں

پارلیمان سے خطاب میں مودی نے کہا کہ ’ہم دوسرے یورپی ممالک بھی جا رہے ہیں لیکن ہماری ہر ممکن کوشش یہی ہو گی کہ یورپی یونین میں داخل ہونے کے لیے برطانیہ ہی ہمارے داخلی مرکز ہو۔‘

انھوں نے کہا کہ بھارت اور برطانیہ ’دو مضبوط معیشتیں اور دو جدید معاشرے ہیں لیکن ہمارے تعلقات کو بھی نئی بلندیوں تک پہچنا ہے۔‘

نریندری مودی پہلے بھارتی وزیراعظم ہیں جنھوں نے برطانوی پارلیمان سے خطاب کیا ہے۔

نریندر مودی کا دورۂ برطانیہ ایک ایسے وقت پر ہو رہا ہے جب ان کی جماعت بی جے پی کو بھارت کی شمالی ریاست بہار میں ہونے والے حالیہ انتخابات میں شکست ہوئی ہے
،تصویر کا کیپشننریندر مودی کا دورۂ برطانیہ ایک ایسے وقت پر ہو رہا ہے جب ان کی جماعت بی جے پی کو بھارت کی شمالی ریاست بہار میں ہونے والے حالیہ انتخابات میں شکست ہوئی ہے

اپنے دورے کے دوران مودی ملکہ برطانیہ سے ملاقات اور ویمبلی سٹیڈیم میں عوامی اجتماع سے خطاب بھی کریں گے۔

اس سے قبل بھارت کے وزیرِ اعظم نریندر مودی جب تین روزہ دورے پر برطانیہ پہنچے تو ان کا شاندار استقبال کیا گیا۔ یہ بھارتی وزیر اعظم کے منتخب ہونے کے بعد برطانیہ کا پہلا دورہ ہے۔

مودی کو برطانوی پارلیمان کے دورے کے پہلے برطانیہ کی رائل ایئر فورس کی جانب سے سلامی دی گئی۔

نریندر مودی اپنے دورے کے پہلے دن ملکۂ برطانیہ سے ملاقات کریں گے۔ اس کے علاوہ وہ بھارت کے قومی ہیرو مہاتما گاندھی کے پارلیمان سکوائر میں نصب مجسمے کی جگہ کا دورہ کرنے کے ساتھ ساتھ لندن کے ویمبلے سٹیڈیم میں لوگوں سے خطاب کریں گے۔

دوسری جانب برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کا کہنا ہے کہ مودی کا دورہ دونوں ممالک کے لیے ترقی کا ’اہم موقع ہے۔‘

کیمرون کا مزید کہنا تھا: ’یہ دونوں ممالک کے لیے موقع ہے کہ وہ اِس دور کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے مل کر کام کریں، دونوں ملک تاریخ، عوام اور روایات کے ذریعے سے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔‘

انھوں نے کہا ’وزیراعظم نریندر مودی اور میرا عزم ہے کہ اِس موقعے کو دونوں ہاتھوں سے تھام لیں۔‘

ادھر مودی کا کہنا تھا کہ اُن کے دورے کا مقصد ’روایتی دوست کے ساتھ تعلقات‘ کو مضبوط کرنا ہے۔

 مودی کے مخالفین نے ان کی برطانیہ آمد پر ڈاؤننگ سٹریٹ کے باہر جمع ہو کر احتجاج کیا
،تصویر کا کیپشن مودی کے مخالفین نے ان کی برطانیہ آمد پر ڈاؤننگ سٹریٹ کے باہر جمع ہو کر احتجاج کیا

واضح رہے کہ نریندر مودی کا دورۂ برطانیہ ایک ایسے وقت پر ہو رہا ہے جب ان کی جماعت بی جے پی کو بھارت کی شمالی ریاست بہار میں ہونے والے حالیہ انتخابات میں شکست ہوئی ہے۔

مودی کے حامیوں کو امید ہے کہ وزیرِ اعظم کے دورۂ برطانیہ سے انھیں بہار کے انتخابات میں ہونے والی شکست کے بعد سنبھلنے کا موقع ملے گا۔

دوسری جانب مودی کے مخالفین نے ان کی برطانیہ آمد پر وزیرِ اعظم کی رہائش گاہ ٹین ڈاؤننگ سٹریٹ کے باہر جمع ہو کر احتجاج کیا۔

برطانیہ میں موجود ’آواز نیٹ ورک‘ سے تعلق رکھنے والے افراد کا کہنا ہے کہ وہ مودی کے ’سخت گیر ایجنڈے‘ کے خلاف ہیں جو ان کے خیال میں بھارت کی جمہوری اور سیکیولر ساخت کو کمزور کر رہا ہے۔

برطانیہ میں موجود درجنوں مصنفین نے برطانوی وزیرِاعظم ڈیوڈ کیمرون کو ایک خط میں زور دیا ہے کہ وہ مودی سے بھارت میں مصنفین، آرٹسٹوں کو تحفظ اور اظہار کی آزادی دلانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

دوسری جانب مودی کے حامیوں نے ان کی برطانیہ آمد پر انھیں خوش آمدید کہا۔