80 زخمیوں کی حالت تشویشناک، ’ایک حملہ آور کی شناخت‘

فرانس کے صدر فرانسوا اولاندنے دارالحکومت پیرس میں ہونے والے حملوں کو نام نہاد تنظیم دولتِ اسلامیہ کا ’جنگی اقدام‘ قرار دیا ہے۔

فرانسیسی صدر نے حملوں کی دولتِ اسلامیہ کی جانب سے ذمہ داری قبول کرنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ حملہ آوروں کی تعداد آٹھ تھی جن میں خودکش حملہ آور بھی شامل تھے۔

پیرس میں چھ مقامات پر ہونے والے پرتشدد حملوں میں کم سے کم 127 ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ تین سو زخمی ہیں جن میں سے 80 افراد کی حالت تشویشناک بتا جا رہی ہے۔ پیرس کے ہسپتالوں میں ہنگامی صورتحال نافذ ہے اور شہریوں سے خون عطیہ کرنے کی اپیل کی جا رہی ہے۔

پیرس کے بٹا کلان تھیٹر میں یرغمال بنائے جانے والے افراد میں کم سے کم 80 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

ملک میں ہنگامی حالت نافذ کر کے فرانس کی سرحد کو سیل کر دیا گیا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنملک میں ہنگامی حالت نافذ کر کے فرانس کی سرحد کو سیل کر دیا گیا ہے

فرانس کے صدر نے ملک میں تین روزہ سوگ کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ ان حملوں کی منصوبہ بندی بیرونِ ملک ہوئی ہے۔

فرانسیسی صدر نے جمعے کی شب ہی ملک میں ایمرجنسی نافذ کر کہ سرحدیں بند کرنے کا اعلان کر دیا تھا اور پیرس میں فوج کے 1500 اہلکاروں کو تعینات کر دیا تھا۔

حملوں کی تحقیقات کا آغاز ہوگیا ہے اور فرانسیی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق ایک حملہ آور کی شناحت ہوئی ہے اور وہ فرانسیسی شہری ہے۔

فرانس میں پولیس حکام کا کہنا ہے کہ پیرس کے فٹ بال سٹیڈیم، کانسرٹ تھیٹر اور ریسٹورنٹ سمیت چھ مختلف علاقوں میں مسلح افراد نے حملے کیے جن میں مبینہ خود کش دھماکے شامل ہیں۔

عینی شاہدین کے مطابق پیرس میں سٹیڈیم کے باہر تین دھماکے ہوئے ہیں۔ دھماکوں کے وقت سٹیڈیم میں فرانس اور جرمنی کے درمیان دوستانہ فٹبال میچ ہو رہا تھا۔

سٹیڈیم میں میچ دیکھنے کے لیے فرانس کے صدر بھی موجود تھے لیکن انھیں سٹیڈیم سے بحفاظت نکال لیا گیا۔

عالمی مذمت اور نقل و حرکت میں کمی

فرانس کے دارالحکومت پیرس میں پرتشدد حملوں میں ہلاکتوں پر اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری کی جانب سے بھرپور مذمت کی جارہی ہے۔

حملوں کے بعد فرانس نے سرحدوں کا کنٹرول سخت کر دیا ہے تاہم فضائی اور ریل سروسز معمول کے مطابق جاری ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty

ملک کے تمام سکول، ہوٹل اور تفریح گاہیں بند کر دی گئی ہیں۔

امریکی ہوائی کمپنیوں نے حملوں کے پیشِ نظر شہر کے لیے اپنی پروازیں معطل کرنے کا اعلان کیا تھا تاہم دیگر فضائی کمپنیوں کی پروازیں معمول کے مطابق چل رہی ہیں۔

گو کہ پیرس آنے والی بین الاقوامی ٹرین سروس بھی کھلی ہے تاہم لندن سے پیرس آنے والی یورو ٹرین جو مکمل طور پر بُک تھی حملوں کے بعد خالی ہی آئی ہے۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق برطانوی ایئرلائنز نے پیرس آنے والی پروازوں میں تاخیر کا اعلان کیا ہے جس کی وجہ سکیورٹی چیک بتائی گئی ہے۔

ادھر فرانس حملوں کے بعد اٹلی میں بھی سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔

ایران کے صدر حسن روحانی نے بھی دورہ فرانس ملتوی کر دیا ہے۔ انھیں سنیچر کو روم اور اتوار کو پیرس پہنچنا تھا۔

،تصویر کا ذریعہAP