’دہشت گردی پوری انسانیت کے لیے چیلینج ہے‘

،تصویر کا ذریعہAFP
فرانس کے دارالحکومت پیرس میں پرتشدد حملوں میں ہلاکتوں پر اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری کی جانب سے بھرپور مذمت کی جا رہی ہے۔
روس کے صدر ویلادی میر پوتن نے فرانس کے صدر کے نام اپنے تعزیتی ٹیلی گرام میں کہا ہے کہ انھیں پیرس میں تواتر سے ہونے والی حملوں پر گہرا رنج ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ سانحہ اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ دہشت گردی پوری انسانیت کے لیے چیلینج ہے اور اس برائی کے خلاف لڑنے کے لیے متحد کوششوں کی ضرورت ہے۔
روسی صدر نے اس امید کا اظہار کیا کہ پیرس حملوں کی معاونت کرنے والوں اور ان میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائےگی۔
انھوں نے فرانس کو تحقیقات میں مدد کرنے کی پیش کش بھی کی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

ادھر شام کے سرکاری میڈیا پر صدر بشار الاسد کا بیان بھی جاری کیا گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ پیرس بھی اسی خونخوار دہشت گردی کا شکار ہے جس سے گذشتہ پانچ سال سے شام کے لوگ نمٹ رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے فرانس میں ہونے والے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انھیں ’قابل نفرت دہشت گرد حملے‘ قرار دیا ہے۔
سیکریٹری جنرل کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ متاثرہ خاندانوں کے دکھ میں وہ برابر کے شریک ہیں اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعاگو ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اس مشکل وقت میں وہ فرانس کی عوام کے ساتھ ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
پیرس میں پر تشدد کارروائیوں کے بعد امریکی صدر براک اوباما نے واشنگٹن میں پریس کانفرنس میں کہا کہ اس مشکل وقت میں امریکہ فرانس کی عوام کے ساتھ ہیں۔ انھوں نے کہا کہ دہشت گردوں کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کے لیے امریکہ فرانس کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔
صدر اوباما نے کہا کہ امریکہ بھی دہشت گردی سے متاثر ہوا اور ’ہم صدر اولاند کے تعاون سے مشترکہ حکمت عملی اپنائیں گے۔‘
برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا ہے کہ پیرس کے حملوں سے انھیں دھچکا لگا ہے اور برطانیہ فرانس کی ہر ممکن مدد کو تیار ہے۔
جرمنی کی چانسلر انگیلا مرکل نے بھی پیرس کے حملوں کی مذمت کی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAP
اپنے بیان میں انھوں نے کہا کہ حملہ آور’ آزادی سے نفرت ‘ کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حملہ آوروں نے ہم سب پر حملہ کیا ہے۔
جرمن حکومت نے فرانس کو تحقیقات میں مدد کرنے کی پیشکش بھی کی ہے۔
روس کی حکومت کے ترجمان دمتری پیسکوف نے پیرس میں ہونے والے حملوں کو ’غیر انسانی قتل قرار دیا ہے‘ جبکہ نیٹو کے سیکریٹری جنرل نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ اس وقت فرانس کے ساتھ ہیں۔
انھوں نے کہاکہ کہ دہشت گردی کبھی بھی جمہوریت کو ختم نہیں کر سکتی۔
امریکی وزیر دفاع ایش کارٹر نے کہا ہے کہ ’پیرس میں ہونے والا حملہ عام انسان کے وقار پر حملہ ہے‘ اور یہ کہ ’امریکہ فرانس کے لوگوں اور اس کی متنوع کلچر پر مبنی جمہوریت کے ساتھ کھڑا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP
بی بی سی نیوز نائٹ کے مارک اربن نے ٹویٹ کیا ہے کہ دولت اسلامیہ کے حامیان پیرس میں ہونے والے حملے پر مسرت کا اظہار کر رہے ہیں۔
پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے ٹوئٹر پر پاکستانی وزیراعظم اور صدر کی جانب سے پیرس میں ہونے والے حملوں کی مذمت کی ہے اور متاثرہ خاندانوں، فرانسیسی حکومت اور عوام کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔
بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے ٹویٹ کیا ہے کہ ’پیرس سے موصول ہونے والی اطلاعات درد ناک اور افسوس ناک ہیں۔ ہلاک شدگان کے ساتھ ہماری ہمدردی ہے اور ایسے حالات میں ہم پیرس کے لوگوں کے ساتھ ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty
کینیڈا کے نو منتخب وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے کہا کہ ان تاریک لمحات میں کینیڈا فرانس کی ہر ممکن مدد کرنے کو تیار ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’ہم اس طرح کے حملوں کو روکنے کے لیے بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر کام کرنے چاہتے ہیں۔







