پیرس حملوں کے بعد دنیا کے مختلف علاقوں میں سوگ، اظہار یکجہتی اور دعائیہ تقریبات۔
،تصویر کا کیپشنجمعے کی شب فرانس کے دارالحکومت پیرس میں چھ مقامات پر ہونے والے پرتشدد حملوں پر دنیا کے مختلف حصوں میں سوگ، اظہار یکجہتی اور دعائیہ، تعزیتی تقریبات منعقد ہو رہی ہیں۔
،تصویر کا کیپشنفرانس میں تین روزہ سوگ منایا جا رہا ہے اور قومی پرچم سرنگوں ہیں۔
،تصویر کا کیپشن ان حملوں میں ہوٹل، فٹ بال سٹیڈیم، اور ایک کانسرٹ ہال کو نشانہ بنایا گیا۔ نیوزی لینڈ میں بھی فرانسیسی برادری نے دعائیہ تقریب منعقد کی اور اس میں ہر آنکھ آبدیدہ تھی۔
،تصویر کا کیپشن بٹاکلان ہال سے زندہ باہر نکلنے والے ایک شخض نے بتایا کہ حملہ آوروں نے 60 کے قریب لوگوں کو یرغمال بنا لیا تھا انھوں نے لوگوں پر نیم خود کار بندوقوں سے فائرنگ کی۔ پیرس سمیت فرانس کے مختلف شہروں میں جگہ جگہ ہلاک شدگان کی یاد میں شمیں روشن کی جا رہی ہیں اور پھول رکھے جا رہے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنفرانس ون کی صحافی جولیئن پیریز جو بٹاکلان میں موجود تھیں نے آنکھوں دیکھا حال بتاتے ہوئے کہا: ’متعدد مسلح افراد کانسرٹ میں داخل ہوئے۔ دو سے تین مردوں نے نقاب نہیں پہنے تھے ان کے ہاتھ میں شاید کلاشنکوف تھی، انھوں نے لوگوں پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔‘
،تصویر کا کیپشنآسٹریلیا میں فرانسیسی برادری بھی سوگ منا رہی ہے۔
،تصویر کا کیپشنفرانس نے حملوں کے بعد ملک میں ہنگامی صورتحال نافذ کر کے ہمسایہ ممالک کے ساتھ سرحدوں کو بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔ فرانس کی سپین سے متصل سرحد پر سرحدی فورس کے اہلکار کھڑے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنماسکو میں بھی پیرس حملوں میں ہلاک ہونے والے شہریوں کے لیے تعزیتی تقریبات کا انعقاد ہو رہا ہے۔ جس میں شہریوں نے فرانس کے سفارت خانے کے بعد پھول رکھے اور شمیں روشن کیں۔
،تصویر کا کیپشنسپین کے شہر میڈرڈ میں بھی فرانسیسی سفارت خانے کے باہر بھی تعزیت کے لیے لوگوں کی بڑی تعداد پہنچ رہی ہے۔