پیرس میں دھماکے اور فائرنگ

فرانس کے دارالحکومت پیرس میں فائرنگ کے واقعات اور دھماکوں میں 127زائد افراد ہلاک

 پیرس کے مختلف علاقوں میں مسلح افراد کے حملوں اور دھماکوں میں کم سے کم 127 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
،تصویر کا کیپشن پیرس کے مختلف علاقوں میں مسلح افراد کے حملوں اور دھماکوں میں کم سے کم 127 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
تین دھماکے فٹبال سٹیڈیم کے باہر اُس وقت ہوئے جب جرمنی اور فرانس کے درمیان دوستانہ میچ جاری تھا۔
،تصویر کا کیپشنتین دھماکے فٹبال سٹیڈیم کے باہر اُس وقت ہوئے جب جرمنی اور فرانس کے درمیان دوستانہ میچ جاری تھا۔
دھماکوں کے بعد پولیس نے علاقے کا گھیراؤ کر لیا ہے۔
،تصویر کا کیپشندھماکوں کے بعد پولیس نے علاقے کا گھیراؤ کر لیا ہے۔
پیرس میں سٹیڈیم کے باہر دھماکوں کے بارے میں خیال کیا جا رہا تھا کہ یہ خودکش دھماکے تھے۔
،تصویر کا کیپشنپیرس میں سٹیڈیم کے باہر دھماکوں کے بارے میں خیال کیا جا رہا تھا کہ یہ خودکش دھماکے تھے۔
پیرس میں امدادی کارکن زخمیوں کو ہسپتال منتقل کر رہے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنپیرس میں امدادی کارکن زخمیوں کو ہسپتال منتقل کر رہے ہیں۔
پیرس میں ہونے والی پر تشدد کارروائیوں کے بعد ملک میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔
،تصویر کا کیپشنپیرس میں ہونے والی پر تشدد کارروائیوں کے بعد ملک میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔
لبریشن اخبار سے بات کرتے ہوئے ایک عینی شاہد نے بتایا ہے کہ انھوں نے لا بیلے ایکوئپے کیفے کے باہر 100 سے زیادہ گولیوں کے راؤنڈز چلنے کی آوازیں سنیں۔
،تصویر کا کیپشنلبریشن اخبار سے بات کرتے ہوئے ایک عینی شاہد نے بتایا ہے کہ انھوں نے لا بیلے ایکوئپے کیفے کے باہر 100 سے زیادہ گولیوں کے راؤنڈز چلنے کی آوازیں سنیں۔
پیرس میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار نے بتایا ہے کہ ’ریستوران لی کیریلون کے قریب ہونے والے حملے کے بعد وہاں دس کے قریب افراد سڑک پر لیٹے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں، یا تو وہ ہلاک ہو چکے ہیں یا پھر زخمی ہیں۔‘
،تصویر کا کیپشنپیرس میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار نے بتایا ہے کہ ’ریستوران لی کیریلون کے قریب ہونے والے حملے کے بعد وہاں دس کے قریب افراد سڑک پر لیٹے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں، یا تو وہ ہلاک ہو چکے ہیں یا پھر زخمی ہیں۔‘
پیرس میں ہونے والے حملوں کے متاثرین کے ساتھ اظہار ہمدردی کے لیے جرمنی، روس اور جاپان سمیت کئی ممالک میں فرانسیسی سفارتخانوں کے باہر لوگ پھول رکھ رہے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنپیرس میں ہونے والے حملوں کے متاثرین کے ساتھ اظہار ہمدردی کے لیے جرمنی، روس اور جاپان سمیت کئی ممالک میں فرانسیسی سفارتخانوں کے باہر لوگ پھول رکھ رہے ہیں۔